بلوچستان کے شہر چمن میں گیس سلنڈر کے دھماکے میں کم از کم سات بچے ہلاک اور خواتین اور بچوں سمیت 17 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
ہلاک اور زخمی ہونے والے بچے افطاری کے لیے لسی لینے کے لیے ایک گھر میں جمع ہوئے تھے۔
چمن پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ کار یزات پولیس سٹیشن کی حدود میں طورپُل کے قریب ایک گھر سے بچے افطاری کے لیے لسی لینے جاتے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ ’آج بھی یہ بچے لسی لینے کے لیے گھر میں جمع ہوئے تھے کہ شام پانچ بجے کے قریب گھر میں موجود گیس سلنڈر زوردار دھماکے سے پھٹ گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ دھماکے سے گھر کے دو کمرے منہدم ہو گئے جس کے سبب بچے اور گھر کے بعض افراد دب گئے۔
انھوں نے بتایا کہ دھماکے کے باعث بچوں سمیت زخمی ہونے والے دیگر افراد کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چمن منتقل کیا گیا ہے۔
ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چمن کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر محمد اویس نے بتایا کہ مجموعی طور پر اس گیس سلنڈر کے دھماکے میں 23 افراد زخمی ہوئے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں میں 7بچوں کی موت ہوئی، جن کی عمریں دس سال کے لگ بھگ تھیں۔



















































