پنجگور اور مستونگ میں بلوچ نوجوانوں کے ماورائے عدالت قتل، بلوچ نسل کشی کے تسلسل کا حصہ ہیں۔ بی وائی سی

21

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ 20 سالہ نوجوان ملنگ بلوچ، ولد زاہد ندیم، کو پنجگور سے ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والے ڈیتھ اسکواڈ نے جبری طور پر لاپتہ کیا اور بعد ازاں ماورائے عدالت قتل کر دیا۔

بیان میں کہا گیا کہ ملنگ بلوچ ایک محنت کش نوجوان تھا جو روزانہ کی بنیاد پر مزدوری کر کے اپنے خاندان کا سہارا تھا۔

اسی طرح یاسر لہڑی، ولد محمد حنیف لہڑی، پیشے کے لحاظ سے ایک درزی تھا، جسے ان فورسز نے قتل کیا جو مکمل اختیار اور مکمل بے لگامی کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ بیان کے مطابق ان فورسز نے انسانی حقوق کی تمام حدود پار کر دی ہیں اور بلوچستان میں کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب بلوچ عوام کو نشانہ نہ بنایا جا رہا ہو۔

بی وائی سی نے کہا کہ بلوچستان میں احتساب کا کوئی مؤثر نظام باقی نہیں رہا۔ ریاستی فورسز کی جانب سے کیے جانے والے جرائم پر کوئی سوال نہیں اٹھایا جاتا۔ جو کچھ بلوچستان میں ہو رہا ہے وہ چند الگ تھلگ واقعات نہیں بلکہ ایک منظم اور سوچے سمجھے پالیسی کا حصہ ہے، جس کا مقصد بلوچ عوام کو خوف، جبری گمشدگیوں اور قتل کے ذریعے کچلنا ہے۔ ہر گھر خوف کے سائے میں زندگی گزار رہا ہے، جہاں کسی بھی وقت کسی کو بھی اٹھایا جا سکتا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستانی ریاستی اداروں نے بلوچستان کو ایک مکمل عسکری زون میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں جبر، دھمکی اور تشدد کو کنٹرول کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

بی وائی سی کے مطابق ملنگ بلوچ اور یاسر لہری کا قتل بین الاقوامی عہدنامہ برائے شہری و سیاسی حقوق (ICCPR) کے آرٹیکل 6 کی صریح خلاف ورزی ہے، جو زندگی کے بنیادی حق کی ضمانت دیتا ہے اور من مانے طور پر زندگی سے محروم کرنے پر مکمل پابندی عائد کرتا ہے۔ جبری گمشدگی کے بعد ماورائے عدالت قتل بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے تحت سنگین ترین جرائم میں شمار ہوتا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ بین الاقوامی برادری کی مسلسل خاموشی اور عدم کارروائی نے ان جرائم کو مزید تقویت دی ہے، جس کے نتیجے میں مجرم بغیر کسی خوف کے اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ بلوچ خاندان سچ، انصاف اور احتساب سے محروم ہو کر خاموشی سے اپنے پیاروں کا غم سہنے پر مجبور ہیں۔

آخر میں کہا گیا کہ بلوچستان کو اس کے باشندوں کے لیے ایک زندہ جہنم بنا دیا گیا ہے، جہاں خوف کو دانستہ طور پر پھیلایا جا رہا ہے اور لوگوں کو مستقل عدم تحفظ میں جینے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ مزید ظلم یہ ہے کہ قتل کے باوجود یاسر لہری کی لاش تاحال اس کے خاندان کے حوالے نہیں کی گئی، جس سے انہیں آخری رسومات ادا کرنے کے بنیادی انسانی حق سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے۔ لاش کو روکنا انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی اور ایک اضافی ظلم ہے۔

بیان کے مطابق یہ عمل اجتماعی سزا کے زمرے میں آتا ہے، جس کی واضح ممانعت چوتھے جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 33 میں کی گئی ہے، جہاں اجتماعی سزاؤں اور خوف و ہراس پھیلانے کے تمام اقدامات کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔