پنجابی دانشور، ریاستی پروپیگنڈا اور بلوچ قومی شعور ۔ لطیف بلوچ

33

پنجابی دانشور، ریاستی پروپیگنڈا اور بلوچ قومی شعور 

تحریر: لطیف بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ 

پاکستانی ریاست اس کی فوجی اسٹیبلشمنٹ اور وابستہ حکمران طبقہ گزشتہ 78 برسوں سے بلوچ مسئلے اور بلوچ قومی تحریک کے حوالے سے اپنے ہی پنجابی عوام کو مسلسل گمراہ کرتے آ رہے ہیں۔ ایک منظم اور بے بنیاد ریاستی بیانیے کے ذریعے عام عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکی گئی اور بلوچ قومی تحریک کو کبھی مختلف ممالک کی پراکسی، کبھی علاقائی سازش اور کبھی محض چند افراد کی بغاوت کے طور پر پیش کر کے اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جاتی رہی۔ اس پورے بیانیے کا بنیادی مقصد بلوچ قومی سوال کی حقیقی بنیاد یعنی جبری قبضہ، غلامی اور حقِ آزادی سے دانستہ روگردانی رہا ہے۔ یہ حقیقت اب کسی وضاحت کی محتاج نہیں کہ بلوچستان کا مسئلہ نہ نام نہاد ترقی کا ہے، نہ فارم 47 کے ذریعے مسلط کردہ حکومتوں کا اور نہ ہی محض محرومی کا۔ یہ ایک خالص قومی مسئلہ ہے اور ہر قومی مسئلے کا فطری حل آزادی ہوتا ہے۔ بلوچ مزاحمت کسی فرد یا جماعت کو اقتدار دلانے یا اقتدار سے ہٹانے کی تحریک نہیں بلکہ ایک قوم کی اپنی شناخت، اپنی زمین اور اپنے مستقبل پر اختیار کی جدوجہد ہے۔ بلوچ قومی مسئلے کا حل بلوچ قومی سوال سے جڑا ہے اور وہ سوال بلوچ قوم کی آزادی کا سوال ہے۔

ریاست کی فکری غیر سنجیدگی اس امر سے عیاں ہے کہ بلوچستان جیسے گہرے اور تاریخی مسئلے کے حل کے لیے سرفراز بگٹی، انوارالحق کاکڑ، علی مدد جتک اور بعض نام نہاد قوم پرست یا اپنے منتخب کردہ افراد پر انحصار کیا جا رہا ہے۔ یہ وہ عناصر ہیں جو نہ بلوچ سماج کی نمائندگی کرتے ہیں اور نہ ہی بلوچ عوام کے دکھ درد سے کوئی حقیقی رشتہ رکھتے ہیں۔ یہ سب جنگی منافع خور ہیں کچھ حب الوطنی کا لبادہ اوڑھ کر لوٹ مار میں مصروف ہیں اور کچھ قوم پرستی کی آڑ میں بلیک میلنگ کے ذریعے وزارتیں، مراعات، ٹھیکے اور ذاتی مفادات سمیٹ رہے ہیں۔ ان کی بدلتی ہوئی زندگیوں اور شاہانہ طرزِ بود و باش کا تعلق براہِ راست بلوچ سرزمین پر جاری جنگ اور خونریزی سے جڑا ہوا ہے۔ سرفراز بگٹی نے آنسو نہ پنجابی قوم کے غم میں بہائے اور نہ ہی متاثرہ خاندانوں سے کسی حقیقی ہمدردی کا اظہار کے لئے۔ وہ آنسو محض اقتدار کے چھن جانے کے خوف اور سیاسی بقا کی ایک ناکام اداکاری تھے۔ ریاست ہمیشہ بلوچ قومی تحریک کو کچلنے کے لیے ایسے چہروں کو آگے لاتی رہی ہے جن کی بلوچ معاشرے میں کوئی اخلاقی، سماجی یا سیاسی حیثیت نہیں رہی۔

جنرل ایوب خان سے لے کر جنرل سکندر مرزا، جنرل یحییٰ خان، جنرل ٹکا خان، ضیاء الحق، جنرل پرویز مشرف، عاصم منیر اور موجودہ عسکری قیادت تک قابضین کا رویہ بنیادی طور پر ایک ہی رہا ہے۔ تکبر، دھمکی اور طاقت کا زعم۔ “ایسا ہٹ کریں گے کہ پتہ نہیں چلے گا”، “پندرہ سو لوگ بلوچستان کو آزاد کریں گے؟ “یہ تو ایک ایس ایچ او کی مار ہے” یہ جملے طاقت کی علامت نہیں بلکہ ریاست کے اندر موجود خوف اور عدمِ اعتماد کا اظہار ہیں۔ اگر طاقت کے ذریعے بلوچ قومی تحریک کو کچلا جا سکتا تو نواب نوروز خان اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ کی گئی بدعہدی اور پھانسیوں کے بعد یہ جدوجہد ختم ہو چکی ہوتی یا نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت کے بعد بلوچ مزاحمت تاریخ کا قصہ بن چکی ہوتی مگر تاریخ گواہ ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوا۔

نواب نوروز خان بلوچ تاریخ میں ریاستی وعدہ شکنی اور مزاحمت کی علامت ہیں۔ قرآن پر حلف دے کر دی گئی زبان کے باوجود ان کے ساتھیوں کو پھانسی دی گئی اور خود نواب نوروز خان قید و اذیت کے عالم میں شہید ہوگئے۔ اگر فریب اور طاقت سے تحریکیں ختم ہو سکتیں تو یہ واقعہ بلوچ قومی جدوجہد کا آخری باب ہوتا مگر اس کے برعکس نواب نوروز خان بلوچ شعور میں ایک دائمی استعارہ بن گئے۔

اسی طرح نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت بلوچ قومی تحریک کا ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی، ایک سابق گورنر، وفاقی وزیر اور وزیرِاعلیٰ کو فوجی کارروائی کے ذریعے قتل کرنا ریاستی طاقت کے زعم کی انتہا تھی مگر اکبر بگٹی کی شہادت نے تحریک کو سرداری دائرے سے نکال کر اجتماعی قومی مزاحمت میں بدل دیا اور بلوچ نوجوانوں کی ایک نئی نسل کو جدوجہد کے میدان میں اتار دیا۔ ریاستی جبر کا ایک اور بھیانک چہرہ غلام محمد اور دیگر سیاسی کارکنوں کی مسخ شدہ لاشوں کی صورت میں سامنے آیا۔ غلام محمد، سنگت ثناء، کامریڈ حمید شاہین، بابو علی شیر کرد اور ہزاروں دیگر بلوچ کارکنوں کی لاشیں دراصل خوف پھیلانے اور تحریک کو کچلنے کی کوشش تھیں مگر ہر لاش نے تحریک کو مزید مضبوط کیا۔ تاریخ کا اصول ہے کہ اجتماعی سزا وقتی خاموشی تو پیدا کر سکتی ہے، مستقل اطاعت نہیں۔

بلوچ قومی تحریک کا سب سے گہرا اور زندہ زخم جبری گمشدگیوں کا مسئلہ ہے۔ اسد اللہ مینگل، احمد شاہ، ذاکر مجید، ڈاکٹر دین محمد اور بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیاں صرف ایک فرد کو نہیں بلکہ پورے سماج کو یرغمال بنانے کا حربہ ہے۔ مگر یہ حربہ بھی بلوچ قومی شعور کو دبانے کے بجائے مزید منظم اور اجتماعی بناتا چلا گیا۔

ایک وقت تھا جب بلوچ قومی تحریک کو محض تین سرداروں تک محدود کر کے پیش کیا جاتا تھا تاکہ اسے قبائلی تنازع بنا کر اس کی قومی حیثیت کو کمزور کیا جا سکے۔ آج وہ تینوں سردار جسمانی طور پر موجود نہیں مگر تحریک پہلے سے زیادہ توانا اور وسیع ہے۔ آج قیادت کسی قبائلی سردار اور نواب کے ہاتھ میں نہیں بلکہ بلوچ طلبہ سیاست اور فکری جدوجہد سے ابھرنے والے عام بلوچ نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے جیسے کماش بشیر زیب بلوچ اور ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ یہ وہ قیادت ہے جو قبائلی نسب سے نہیں بلکہ شعور، فکر اور نظریے سے جنم لیتی ہے آج محاذ پر صرف مری، مینگل یا بگٹی قبائل کے افراد نہیں بلکہ بلوچستان کے طول و عرض سے تعلق رکھنے والے پڑھے لکھے، باشعور نوجوان موجود ہیں، جو کسی قبائلی خاطر داری کے تحت نہیں بلکہ ایک اجتماعی قومی شعور کے تحت جدوجہد کر رہے ہیں اور پنجاب میں بیٹھ کر بلوچ مزاحمت کاروں کو دہشت گرد قرار دینے والے زمینی حقائق سے یا بالکل نابلد ہیں یا منافقت کر رہے ہیں۔ بلوچ مزاحمت کار جن جن شہروں میں داخل ہوتے ہیں عام شہری دیوانہ وار ان کی ایک جھلک دیکھنے نکل آتے ہیں ان سے گلے ملتے ہیں، ان کے ماتھوں اور ہاتھوں کو چومتے ہیں یہ ایک واضح مثال ہے کہ تمام تر ریاستی جبر اور مظالم کے باوجود بلوچ قوم بلا خوف اپنے محافظوں سے محبت کرتی ہے۔ اگر کوئی پنجابی دانشور علمی بے ایمانی کا مظاہرہ کرتا ہے تو یہ نہ صرف علم سے خیانت ہے بلکہ اپنے بچوں سے بھی منافقت ہے کیونکہ انہیں غلط تاریخ پڑھانے اور سکھانے کی کوشش کی جا رہی ہے جیسے بنگلہ دیش کی تاریخ چھپائی گئی یا پاکستان بننے کی برطانوی سازش کو جنگ آزادی کا نام دیا گیا۔ بلوچستان کے متعلق بھی یہی منافقت جاری ہے۔ فتنۂ ہندوستان جیسے اصطلاحات استعمال کرکے اپنی جبری قبضہ کو چھپانے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے۔ مگر تاریخ کو جھوٹ، فریب یا قلمی بے ایمانی سے دبایا نہیں جا سکتا۔

بلوچ تحریک کی حقیقت کو سردار عطاء اللہ مینگل کے اس قول سے بہتر کوئی بیان نہیں کر سکتا کہ بلوچ بھارت یا کسی اور کو نوازنے کے لیے نہیں لڑ رہے بلوچ اپنی بقا، اپنی زمین اور اپنی آزادی کے لیے لڑ رہے ہیں۔

آج یہ پروپیگنڈا بھی غیر مؤثر ہو چکا ہے کہ بلوچ قیادت بیرونِ ملک بیٹھی ہے۔ کماش بشیر زیب بلوچ کا خود قیادت کرتے ہوئے سامنے آنا اس بات کا واضح اعلان ہے کہ بلوچ مزاحمتی قیادت بلوچ سرزمین پر موجود ہے اور اپنی قوم کی اجتماعی طاقت پر یقین رکھتی ہے۔ بلوچ خواتین کی عملی شرکت بھی اس جدوجہد کے خالص قومی اور نظریاتی ہونے کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔ یہ کسی بیرونی طاقت یا پراکسی کی جنگ نہیں، بلکہ ایک قوم کی اپنی سرزمین پر، اپنی آزادی اور وقار کے لیے لڑی جانے والی جدوجہد ہے—ایسی جدوجہد جو بندوق سے پہلے فکر، شعور اور دلیل سے مسلح ہے، اور جسے محض طاقت کے ذریعے کبھی شکست نہیں دی جا سکتی۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔