پاکستان کی بلوچستان حکمت عملی ناکام ہو رہی ہے – زلمے خلیل زاد

354

امریکہ کے سابق نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے بلوچ لبریشن آرمی کے آپریشن ھیروف کے تحت جاری حملوں پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی بلوچستان حکمت عملی ناکام ہو رہی ہے جیسا کہ کل بڑے پیمانے پر اور مربوط حملوں میں دیکھا جاسکتا ہے۔

خلیل زاد کا کہنا ہے کہ پاکستان کی حکمت عملی میں بحران ہے۔ اسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

بلوچ لبریشن آرمی نے گذشتہ روز “آپریشن ھیروف” کے دوسرے مرحلے کا آغاز کیا جس کے تحت مربوط حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ کوئٹہ سمیت نوشکی، دالبندین، خاران، گوادر میں بلوچ لبریشن آرمی کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی جبکہ مستونگ، قلات، تمپ، تربت، سبی، نصیر آباد میں مختلف نوعیت کے حملے کیئے گئے۔

بلوچستان میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ تمام شہروں میں انٹرنیٹ سروس کو مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے۔

حکام نے پندرہ فورسز اہلکاروں کے ہلاکت کی تصدیق کردی ہے تاہم مذکورہ شہروں میں بڑے پیمانے پر حملوں کے باعث یہ تعداد زیادہ بتائی جارہی ہے۔

بی ایل اے کے ترجمان جیئند بلوچ نے گذشتہ شب ایک مختصر بیان میں کہا کہ آپریشن ھیروف فیز ٹو پندرہ گھنٹے گزرنے کے بعد بھی بلوچستان کے مختلف شہروں اور اہم علاقوں میں جاری ہے۔ متعدد مقامات پر سرمچاروں کا کنٹرول بدستور قائم ہے اور دشمن کی نقل وحرکت شدید دباؤ میں ہے۔

ترجمان نے کہا کہ جاری کارروائیوں کے باعث زمینی صورتحال مسلسل تبدیل ہو رہی ہے اور دشمن کو مختلف محاذوں پر بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا گیا ہے۔ آپریشن کی پیش رفت کے مطابق تفصیلی اور حتمی معلومات مناسب وقت پر جلد میڈیا کے ذریعے جاری کی جائیں گی۔