ٹریکٹر چلاکر گزر بسر کرتا ہوں، حکومت بلوچستان نے ہشتہاری مفرور قرار دیکر 30 لاکھ انعام رکھا – شاہ میر کی پریس کانفرنس

43

شاہ میر ولد محمد بخش، ساکن نگور ڈنڈار کولواہ کیچ، نے جمعرات کے روز تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سرکار کی جانب سے ان کے سر کی قیمت 30 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے، حالانکہ وہ ایک زمیندار ہیں اور اپنے علاقے میں موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں سرکار کی جانب سے انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی ایک فہرست جاری کی گئی، جس میں غلطی یا غلط فہمی کی بنیاد پر ان کا نام بھی شامل کر دیا گیا اور ان کے سر کی قیمت مقرر کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک زمیندار اور مزدور پیشہ شخص ہیں اور ان کا کسی بھی غیر قانونی یا شدت پسند سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

شاہ میر نے مزید کہا کہ سرکار جب بھی اور جہاں چاہے، وہ پیش ہو کر اپنی صفائی دینے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ ان کا نام بلیک لسٹ سے نکالا جائے تاکہ وہ پرسکون زندگی گزار سکیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں حکومت بلوچستان نے بلوچ آزادی پسند قیادت کے سروں کی قیمت مقرر کی تھی، جن میں بشیر زیب بلوچ (بی ایل اے کے سربراہ) کے سر کی قیمت 25 کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے۔