نوشکی کرفیو: بازار و ٹرانسپورٹ بندش سے عوام پریشان

45

رمضان کی آمد کے پیش نظر نوشکی شہر میں شام 6 بجے سے صبح 9 بجے تک بازاروں کی بندش کے باعث عوام اور تاجروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ افطار اور سحری کے اوقات میں خریداری ممکن نہ ہونے کے باعث روزمرہ اشیائے ضروریہ کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے، جبکہ دکانداروں کے مطابق کاروباری سرگرمیاں معطل ہونے سے انہیں مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

عوام اور تاجروں نے مطالبہ کیا ہے کہ رمضان المبارک کے احترام میں بازاروں کو مناسب اوقات تک کھلا رکھنے کی اجازت دی جائے تاکہ شہری باآسانی خریداری کر سکیں اور کاروبار جاری رہ سکے۔

دوسری جانب نوشکی میں شام 6 بجے سے صبح 9 بجے تک ٹرانسپورٹ کی بندش کے باعث آر سی ڈی شاہراہ پر سفر کرنے والے مسافروں اور ٹرانسپورٹرز کو بھی شدید مشکلات درپیش ہیں۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ سفری پابندیوں کی وجہ سے وہ اپنی منزل تک بروقت نہیں پہنچ پا رہے، جبکہ ٹرانسپورٹرز کو معاشی نقصان کا سامنا ہے۔

شہریوں، تاجروں اور ٹرانسپورٹرز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ لاک ڈاؤن اور سفری پابندیوں پر نظرثانی کی جائے اور رمضان المبارک کے پیش نظر عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی بحال ہو سکیں۔

واضح رہے کہ شہر میں کرفیو کا اعلان 6 فروری کو کیا گیا تھا۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق یہ فیصلہ امن و امان کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔

اعلان کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں فوجی اہلکار تعینات کر دیے گئے جبکہ اہم شاہراہوں اور داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندیاں قائم کی گئیں۔

مزید برآں، حکام نے ہدایت کی کہ ہنگامی صورتحال کے علاوہ غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کیا جائے۔ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی عمل میں لانے کا بھی عندیہ دیا گیا۔

یہ کرفیو ایک ایسے وقت میں نافذ کیا گیا ہے جب بلوچستان میں صورتحال کافی کشیدہ ہے اور بلوچ لبریشن آرمی نے اپنی کارروائیوں کی ایک نئی لہر کا اعلان کیا تھا جسے “آپریشن ہیروف فیز ٹو” کا نام دے رکھا ہے۔

بلوچ لبریشن آرمی نے 31 جنوری کو بلوچستان بھر میں “آپریشن ہیروف فیز ٹو” شروع کرنے کا اعلان کیا تھا ، جس کے تحت وہ متعدد شہروں میں بیک وقت حملے شروع کیے گئے تھے ۔