نوشکی انتظامیہ نے شہر میں شام 5 بجے سے صبح 9 بجے تک کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مساجد میں بھی اس پابندی کے بارے میں عوام کو آگاہی فراہم کی گئی۔
یہ کرفیو ایک ایسے وقت میں نافذ کیا گیا ہے جب بلوچستان میں صورتحال کافی کشیدہ ہے اور بلوچ لبریشن آرمی نے اپنی کارروائیوں کی ایک نئی لہر کا اعلان کیا ہے جسے “آپریشن ہیروف فیز ٹو” کا نام دے رکھا ہے۔
بلوچ لبریشن آرمی نے 31 جنوری کو بلوچستان بھر میں “آپریشن ہیروف فیز ٹو” شروع کرنے کا اعلان کیا، جس کے تحت وہ متعدد شہروں میں بیک وقت حملے شروع کیے گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ کارروائیاں بلوچستان کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی ہیں، جن میں کوئٹہ، نوشکی، مستونگ، گوادر اور دیگر شہر شامل ہیں، اور فائرنگ کی آوازیں اور دھماکے کئی علاقوں میں سنے گئے ہیں۔
ہیروف فیز ٹو کے حوالے سے بی ایل اے کا کہنا ہے کہ وہ متعدد پاکستانی فورسز کے چوکیوں و کیمپوں پر قبضہ کرلیا ہے جبکہ کئی علاقوں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا گیا۔
بلوچستان حکومت کے ترجمان نے گذشتہ روز کہا کہ نوشکی میں کشیدگی برقرار ہے اور شہر کو تاحال مکمل طور پر کلیئر نہیں کیا جا سکا۔
اس دوران بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں موبائل انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر غیر فعال رہا اور ریل سروس بھی معطل رہیں۔
















































