نوشکی میں دھماکے اور فائرنگ، صورتحال بدستور کشیدہ

79

بلوچستان کے سرحدی شہر نوشکی میں ہفتے کے روز صبح پانچ بجے کے قریب ہونے والے زور دار دھماکوں نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔ گہری نیند میں سوئے شہری اچانک دھماکوں کی گونج سے جاگ اٹھے۔ ابتدائی دھماکوں کے بعد فائرنگ کا طویل سلسلہ شروع ہوا جو آخری اطلاعات تک جاری رہا۔

مقامی ذرائع کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں سے فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ صورتحال اس وقت مزید گھمبیر ہو گئی جب اتوار کی صبح دو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے مسلح افراد پر شیلنگ کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ شہریوں نے ڈپٹی کمشنر ہاؤس کے اطراف سے دھواں اٹھتے ہوئے بھی دیکھا، جس سے حالات کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

اتوار کے روز وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ نوشکی کو کلیئر کر دیا گیا ہے اور حالات حکومت کے کنٹرول میں ہیں۔ تاہم مقامی آبادی اس دعوے سے متفق دکھائی نہیں دیتی۔ شہریوں کے مطابق شہر میں اب بھی شدید غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ نوشکی بازار گزشتہ دو روز سے مکمل طور پر بند ہے، جبکہ این۔40 آر سی ڈی شاہراہ بھی مسلح افراد کے کنٹرول میں بتائی جا رہی ہے۔

مقامی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ نوشکی پولیس تھانے پر مسلح افراد کے قبضے کی اطلاعات ہیں، جبکہ شہر کے کئی علاقوں میں فورسز کی موجودگی محدود دکھائی دے رہی ہے۔ مسلسل کشیدگی کے باعث لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں اور روزمرہ زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو چکی ہے۔

دو روز سے بجلی کی فراہمی معطل ہے، جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ موبائل نیٹ ورک کی بندش اور سرکاری دفاتر کی تعطیل کے باعث صحافیوں اور مقامی افراد کو علاقے سے متعلق مستند معلومات کے حصول میں شدید دشواری پیش آ رہی ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق شہر کے کئی حصوں میں اب بھی مسلح افراد کی موجودگی کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ نوشکی شہر اس وقت مکمل طور پر مسلح افراد کے کنٹرول میں ہے اور شہر کو چاروں اطراف سے گھیرے میں لیا جا چکا ہے۔ مختلف علاقوں اور گلی کوچوں میں مسلح افراد کی گشت کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔

یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ایک روز قبل بلوچستان بھر میں اپنے “آپریشن ہیروف فیز ٹو” کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔ تنظیم کے ترجمان جیئند بلوچ کے مطابق یہ آپریشن پینتیس گھنٹے گزرنے کے باوجود پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔ ان کے بیان کے مطابق نوشکی، شال اور دیگر علاقوں میں تنظیم کے مسلح افراد کا کنٹرول برقرار ہے اور کئی سرکاری تنصیبات، فورسز کے کیمپوں اور چوکیوں پر قبضہ کیا جا چکا ہے۔

ترجمان کے مطابق مختلف علاقوں میں “دشمن کی عسکری اور انتظامی موجودگی” کو پسپا کیا جا چکا ہے اور قابض فورسز کو فیصلہ کن دباؤ کا سامنا ہے۔ تاہم حکومتی سطح پر ان دعووں کی تصدیق نہیں کی جا سکی، اور سرکاری مؤقف اس سے یکسر مختلف ہے۔

جاری حالیہ واقعات نے ایک بار پھر بلوچستان کی پیچیدہ سکیورٹی صورتحال کو قومی اور عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ تاہم زمینی حقائق، سرکاری بیانات اور مقامی آبادی کے دعووں کے درمیان موجود واضح تضاد نے صورتحال کو مزید الجھا دیا ہے۔

پیدا ہونے والی حالیہ صورتحال نے ایک اور اہم بحث کو بھی جنم دیا ہے۔ بلوچستان میں موجود مسلح تحریک نے پاکستان کے سرکاری اور عسکری بیانیے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ چند ماہ قبل پاکستانی فوج کے سربراہ کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ بلوچستان میں مسلح افراد کی تعداد صرف ڈیڑھ سے دو ہزار کے قریب ہے اور یہ ایک محدود گروہ ہے، تاہم زمینی حقائق اس دعوے سے یکسر مختلف تصویر پیش کر رہے ہیں۔ رقبے کے لحاظ سے بڑے علاقوں میں گزشتہ دو دنوں سے متعدد علاقے مسلح افراد کے عملی کنٹرول میں ہیں، جبکہ پاکستانی فوج اور سکیورٹی اداروں کی موجودگی زیادہ تر اپنے کیمپوں اور چوکیوں تک محدود دکھائی دے رہی ہے۔

مبصرین کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف مسلح تنظیموں کی بڑھتی ہوئی قوت کی عکاس ہے بلکہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ انہیں مقامی سطح پر عوامی حمایت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتی دعووں کے باوجود زمینی حالات مسلسل غیر یقینی اور متنازع تصویر پیش کر رہے ہیں، جو بلوچستان کے دیرینہ مسئلے کی پیچیدگی اور سنگینی کو مزید واضح کرتے ہیں۔