نوشکی لاک ڈاؤن: زچگی کے دوران ماں اور بچوں کی شرحِ اموات میں اضافے کا خدشہ

18

بلوچستان کے ضلع نوشکی میں رواں سال 31 جنوری کو بلوچ لبریشن آرمی کے مربوط اور منظم حملوں اور شہر پر چھ روزہ کنٹرول کے بعد پاکستانی فورسز کی جانب سے نافذ کیے گئے کرفیو اور لاک ڈاؤن کے باعث شہری شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔

شہریوں کے مطابق 6 فروری سے حکومت اور فورسز کی جانب سے جاری کرفیو نما لاک ڈاؤن نے نظامِ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ دیگر شعبہ ہائے زندگی کسی نہ کسی طرح وقت گزار رہے ہیں، تاہم صحت کا شعبہ شدید بحران کا شکار ہے۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال، خصوصاً زچگی کے دوران مریضہ اور ان کے اہلِ خانہ کو ناقابلِ بیان کرب، اذیت اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ متعدد خواتین ڈاکٹرز اور ہسپتال تک بروقت رسائی نہ ہونے کے باعث ساری رات تکلیف میں مبتلا رہتی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ نوشکی میں مریضوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔

شام 6 بجے سے اگلے روز صبح 9 بجے تک جاری لاک ڈاؤن کے دوران کسی کو بھی مریض کو ہسپتال منتقل کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ تمام میڈیکل اسٹورز اور نجی کلینکس بھی بند رہتے ہیں۔ میر گل خان نصیر ٹیچنگ ہسپتال، جو فورسز کے ہیڈکوارٹر کے قریب واقع ہے، تک رسائی بھی انتہائی دشوار ہو جاتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق رات کے وقت ایمبولینسوں کو نقل و حرکت کی اجازت نہیں دی جاتی کیونکہ کوئی ڈاکٹر دستیاب نہیں ہوتا جو ایمرجنسی کی صورت میں مریض کو ریفر کر سکے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ نوشکی کی اس تشویشناک صورتحال پر عوامی نمائندوں نے مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ ایم پی اے اور ایم این اے کی عدم توجہی کے باعث چاغی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر اور ایم پی اے، جبکہ خاران سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر بھی خود کو اس معاملے سے الگ سمجھتے ہیں، حالانکہ چاغی اور خاران کے مریض بھی اکثر علاج کے لیے نوشکی لائے جاتے ہیں۔ نوشکی کی سیاسی جماعتوں نے بھی اس صورتحال پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے، جو انتخابی مہم کے دوران عوام سے ووٹ لینے کے باوجود عملی اقدامات میں ناکام نظر آتی ہیں۔

شہریوں نے حکومتِ بلوچستان اور اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہنگامی طبی سہولیات، خصوصاً زچگی کے کیسز میں، ڈاکٹرز اور ہسپتال تک رسائی کے لیے مؤثر اور فوری طریقۂ کار وضع کیا جائے۔ اگر ممکن ہو تو لاک ڈاؤن میں نرمی یا اس کے خاتمے پر غور کیا جائے تاکہ عوام کو ان مشکلات سے نجات مل سکے۔