نوشکی: فورسز کی ایمبولنس و عام شہریوں پر فائرنگ کے نتیجے میں متعدد ہلاکتیں و زخمی

73

فضائی اور ڈرون حملوں میں زخمیوں کو لے جانے والا ایمبولینس بھی پاکستانی فورسز کی فائرنگ کی زد میں آگیا، شہر میں حالات انتہائی کشیدہ۔

‏اطلاعات کے مطابق نوشکی ٹیچنگ ہسپتال کے ایمبولنس کو فوج نے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ڈرائیور حشمت علی جان زخمی ہوگئے۔

‏اس سے قبل کیڈٹ کالج کے قریب مل ایمبولنس کے پاکستان فوج نے نشانہ بنایا اس میں بھی ڈرائیور جانبحق ہوگیا۔

مزید برآں گلوکار حسین اسیر کا بھائی حسن بسری پاکستانی فوج نے فائرنگ میں نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں وہ جانبحق ہوگئے۔

اس سے قبل دیدگ بلوچ نامی بچے کی ڈرون حملے میں جانبحق ہونے کی تصدیق ہوئی تھی، جبکہ رات گئے قاضی آباد میں پاکستانی فورسز کے فائرنگ سے کمسن لڑکا شہزاد جان کی بازی ہار گیا۔

نوشکی شہر میں پانچوا روز بھی شدید خونی جھڑپوں کے ساتھ جاری ہے، جہاں ہفتے کی علی الصبح بلوچ لبریشن آرمی نے آپریشن ہیروف کے دوسرے مرحلے کے تحت نوشکی سمیت بلوچستان کے درجن بھر شہروں پر حملے کیے۔

بلوچ سرمچاروں نے اس دوران دیگر شہروں کے ساتھ ساتھ نوشکی شہر پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا اور وہاں موجود متعدد پاکستانی فورسز کے کیمپوں اور آئی ایس آئی کے ہیڈکوارٹر کو متعدد خودکش حملوں کا نشانہ بنانے کے بعد اندر داخل ہوگئے۔

اس دوران مسلح افراد نے نوشکی بھر میں پولیس تھانوں اور سرکاری دفاتر پر بھی قبضہ کرلیا، جبکہ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کو نوشکی بدر کرتے ہوئے انتظامی امور پر بھی کنٹرول حاصل کرلیا۔

پانچ روز گزر جانے کے باوجود بلوچ سرمچار شہر کے بڑے حصے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھتے ہوئے، پاکستانی فورسز کے اہلکاروں، کیمپوں اور دیگر املاک کو نشانہ بنا رہے ہیں، اس دوران پاکستانی فورسز کی کمک کے لیے آنے والی زمینی نفری بھی نوشکی شہر کے باہر حملوں کی زد میں آنے کے بعد واپس لوٹ گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق پاکستانی فورسز کی جانب سے نوشکی شہر میں شہری آبادی کو فضائی بمباری اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جن میں ایک مسافر گاڑی اور ایک ایمبولینس بھی شامل ہے۔

نوشکی شہر میں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات ہیں، تاہم پاکستانی فورسز اور بلوچ سرمچاروں میں جاری جھڑپوں کے باعث مواصلاتی نظام درہم برہم ہے اور انٹرنیٹ بھی معطل کردیا گیا ہے، اور جانی نقصانات کے معلومات تک رسائی محدود ہوگئی ہے۔