نوشکی: عوامی مجمع سے بی ایل اے جنگجو کا خطاب، ہکل میڈیا کی جانب سے ویڈیو جاری

145

بلوچ لبریشن آرمی کے میڈیا ہکل نے آپریشن ہیروف کے دوران نوشکی میں بلوچ سرمچاروں کے عوام سے خطاب کی ایک ویڈیو نشر کی ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں کے گرد عوام کا ایک بڑا مجمع موجود ہے، جبکہ ایک جنگجو براہوئی زبان میں عوام سے مخاطب ہے اور لوگ پُرسکون انداز میں اس کی بات سن رہے ہیں۔

عوام سے مخاطب جنگجو کہتا ہے کہ بلوچ قوم سے گزارش ہے کہ آج کی جنگ، جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں، کماش (بشیر زیب بلوچ) کی جانب سے ہیروف 2 کا اعلان ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ہم پہلے بھی واضح کر چکے ہیں کہ ہیروف 2 میں پوری قوم کو باہر نکلنا ہوگا۔ قوم سے یہی درخواست ہے کہ وہ اپنے دفاع اور بقا کے لیے ہتھیار اٹھائے۔ ہر روز سڑکوں پر ناحق مرنے سے بہتر ہے کہ اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے اس جنگ میں شامل ہوا جائے۔

وہ مزید کہتا ہے کہ اگر کوئی خود اس جنگ میں شامل نہیں ہو سکتا تو جس کے پاس ہتھیار یا گولیاں موجود ہوں، وہ بلوچ سرمچاروں کو فراہم کرے، تاکہ اس جنگ میں اس کا بھی حصہ شامل ہو سکے۔ آپ بلوچ کے بچے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ آپ کے گھروں میں ہتھیار ضرور موجود ہوں گے۔ اگر زیادہ کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم اتنا ضرور کریں۔

جنگجو کا کہنا ہے کہ آج مائیں اور بہنیں قربانیاں دے رہی ہیں، جبکہ ہم صرف گھروں میں بیٹھ کر اسٹیٹس لگا رہے ہیں۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ ہماری محبت صرف موبائل تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ دل سے ہونی چاہیے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہر شخص ہتھیار نہیں اٹھا سکتا، لیکن ہر کوئی جس انداز میں بلوچ قوم کی خدمت کر سکتا ہے، اسی انداز میں کرے۔ کوئی مالی طور پر، کوئی جانی طور پر، کوئی قلم کے ذریعے—ہر وہ طریقہ جو اس کے بس میں ہو۔

وہ کہتا ہے کہ یہ ہم سب پر فرض ہے کہ بلوچ سرزمین کے دفاع کے لیے جو کچھ کر سکتے ہیں، وہ ضرور کریں۔ آج ہم سے یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ جب مائیں اور بہنیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کے بعد ان کی زندگی ختم ہو جائے گی، اس کے باوجود قربانیاں دے رہی ہیں، تو ہم اور آپ کیوں خاموش بیٹھے ہیں؟ ہم یہاں بیٹھے رہتے ہیں اور میر و سردار ہمیں دھوکہ دیتے رہتے ہیں، اور ہم ان کے پیچھے چلتے رہتے ہیں، حالانکہ وہ ہمیں مسلسل دھوکہ دیتے آئے ہیں۔

عوام سے مخاطب سرمچار مزید کہتا ہے کہ اگر آج ہم اس جنگ میں شامل ہو جائیں تو ان شاء اللہ قابض کو مار کر اپنی سرزمین سے باہر نکال دیں گے۔ اس کا کہنا ہے کہ چونکہ پہلے ان کے نوے ہزار سپاہی مارے جا چکے ہیں، آج اگر آپ لوگ شامل ہو جائیں تو ان شاء اللہ ہم انہیں مکمل طور پر شکست دیں گے، بشرطیکہ قوم ساتھ دے۔

وہ کہتا ہے کہ صرف ہمارے پیچھے چلنے، ویڈیوز بنانے اور اسٹیٹس لگانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ آخر میں وہ کہتا ہے کہ آپ بلوچ کے بچے ہیں، کوشش کریں اور آگے آئیں، یہ جنگ ہم سب کی ہے۔ اگر آپ خود جنگ میں شامل نہیں ہو سکتے تو اگر آپ کے پاس ہتھیار موجود ہیں تو وہ لے آئیں، تاکہ ہم قابض کو اپنی سرزمین سے باہر نکال سکیں، لیکن بھرپور کوشش کریں کہ اس جنگ میں شامل ہوں۔