نوشکی شہر پر بلوچ لبریشن آرمی کا کنٹرول تیسرے روز برقرار، شدید فائرنگ اور دھماکے

143

بلوچستان کے شہر نوشکی میں آج تیسرے روز بھی بلوچ لبریشن آرمی کا کنٹرول برقرار ہے۔ شہر کے مختلف حصوں سے دھماکوں اور فائرنگ کی آواز سنی جاسکتی ہے۔

ہفتے کی صبح پانچ بجے بلوچ لبریشن آرمی نے آپریشن ھیروف کے دوسرے مرحلے کے تحت اپنی مربوط حملوں کا آغاز کیا۔ یہ حملے کوئٹہ، نوشکی، خاران، دالبندین، گوادر، تربت، تمپ، قلات، مستونگ، خضدار اور دیگر علاقوں میں کئے گئے۔

آج تیسرے روز بھی نوشکی شہر پر بلوچ لبریشن آرمی کا کنٹرول برقرار ہے۔ ایک علاقہ مکین نے ٹی بی پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ شب وقفے وقفے سے فائرنگ اور دھماکوں کی آواز جاری جبکہ آج صبح ان میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ایک اور ذرائع نے ٹی بی پی کو بتایا کہ فورسز کے مرکزی کیمپوں سمیت ملٹری انٹیلی جنس کے دفتر کی جانب شدید نوعیت کی جھڑپیں جاری ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ نوشکی شہر کی زمینی راستے دیگر شہروں سے کٹ چکے ہیں جس کے باعث فورسز کیلئے بھی زمینی کمک نہیں پہنچ رہی ہے۔

بلوچ لبریشن آرمی کے میڈیا ہکؔل نے نوشکی میں آپریشن میں حصہ لینے والے ایک خاتون فدائی عاصفہ مینگل کی تصویر سمیت تفصیلات جاری کردی ہے۔ بیان میں بتایا گیا کہ عاصفہ نے بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کے دفتر کو نشانہ بنایا۔

خیال رہے بی ایل اے آپریشن ھیروف میں مجید برگیڈ کی بڑی تعداد حصہ لے رہی ہے جبکہ تنظیم کے دیگر یونٹس فتح اسکواڈ اور ایس ٹی او ایس بھی اس کا حصہ ہیں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے گذشتہ روز پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ نوشکی میں کلئرینس آپریشن جاری ہے تاہم علاقہ مکینوں و دیگر ذرائع کے مطابق شہر تاحال بلوچ لبریشن آرمی کے کنٹرول میں ہے اور ان حملوں کے نتیجے میں بڑی تعداد میں فورسز اہلکاروں کے ہلاکتیں ہوئی ہے۔