پاکستانی فورسز کی فضائی کارروائیوں کے باوجود بلوچ سرمچار شہر پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
نوشکی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق پاکستانی فورسز کی دو بار زمینی پیش قدمی کو بلوچ لبریشن آرمی کے ارکان نے خاران کے قریب نشانہ بنایا، جس کے بعد فورسز پیچھے ہٹ گئیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی فورسز نے آپریشن کے دوسرے اور تیسرے روز درجنوں ڈرون حملے کیے، تاہم وہ اب تک شہر کا کنٹرول واپس لینے میں ناکام رہی ہیں، تاہم ڈرون حملوں میں شہری ہلاکتوں کے اطلاعات ہیں۔
بلوچ لبریشن آرمی نے ہفتے کی صبح دیگر شہروں کی طرح مربوط کارروائیوں کے ذریعے نوشکی کا بھی کنٹرول حاصل کر لیا تھا، جس کے بعد مسلح افراد نے سرکاری عمارتوں اور پولیس تھانوں پر حملوں کے ساتھ ساتھ پاکستانی آئی ایس آئی ہیڈکوارٹر اور پاکستانی فورسز کے متعدد کیمپوں کو خودکش حملوں کا نشانہ بنایا۔
آئی ایس آئی ہیڈکوارٹر میں بھی متعدد افسران اور اہلکار گزشتہ تین روز سے بی ایل اے کے حملوں کی زد میں ہیں۔
تین روز گزر جانے کے باوجود پاکستان فورسز اپنے اہلکاروں کو ریسکیو کرنے اور انھیں مزید کمک پہنچانے میں ناکام رہی ہے۔
نوشکی شہر کی بندش کے باعث دیگر شہروں کے رہائشی اپنے رشتہ داروں کے حوالے سے شدید پریشان ہیں، کوئٹہ کے رہائشیوں نے بتایا کہ شہر کی بندش کے سبب ان کے بچے نوشکی کے کیڈٹ کالج میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔
والدین نے پاکستانی حکام سے شکایت کی ہے کہ گزشتہ تین روز سے نوشکی میں کوئی امداد نہیں پہنچ رہی، جس کے باعث کیڈٹ کالج میں پھنسے طلباء کے لواحقین شدید اضطراب کا شکار ہیں۔
انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ انکے بچوں تک ریسکو پہنچائی جائے اور انھیں نوشکی سے باحفاظت نکالا جائے۔














































