نوشکی بس اڈے کے قریب پاکستانی کیمپ پر حملے کی اطلاع ہے۔ منگل کی شب ایک بار پھر علاقے میں شدید دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق پاکستانی فورسز براہِ راست عام آبادی کو نشانہ بنا رہی ہیں، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصانات کا خدشہ ہے۔
شہر میں چوتھے روز بھی انٹرنیٹ سروس بدستور بند ہے، جبکہ آمد و رفت بھی معطل ہے۔
خیال رہے کہ بلوچ لبریشن آرمی نے ہفتے کی شب بلوچستان بھر میں مربوط حملوں کا آغاز کیا تھا۔ آپریشن ہیروف کے تحت کوئٹہ، نوشکی سمیت 12 شہروں میں بیک وقت حملے کیے گئے۔
حکام کی جانب سے حالات کو کنٹرول کرنے کے دعوؤں کے برعکس، نوشکی میں اب تک مسلح افراد کا کنٹرول برقرار ہے۔
بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ کے مطابق، آپریشن ہیروف فیز ٹو چوتھے روز میں داخل ہو چکا ہے اور اب تک بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔ نوشکی شہر سمیت متعدد مقامات پر بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچار مضبوط پوزیشنوں پر قابض ہیں اور کنٹرول بدستور برقرار ہے۔ زمینی صورتحال کے مطابق قابض فورسز کو مختلف محاذوں پر شدید دباؤ، پسپائی اور بدحواسی کا سامنا ہے، جبکہ بلوچ سرمچار مسلسل مزاحمت کے ذریعے دشمن کی عسکری پیش قدمی کو ناکام بنا رہے ہیں














































