مستونگ:میرے بیٹے کو مخبری سے انکار پر قتل کیا گیا۔ والدہ احسان شاہ

8

مستونگ میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے نوجوان احسان شاہ کی والدہ نے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ میرے بیٹے کو 3 جون 2025 کو صرف اس لیے شہید کر دیا گیا کیونکہ اس نے ریاستی اداروں کے لیے مخبر بننے سے انکار کر دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں نوجوانوں کو روزانہ ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والے ’ڈیتھ اسکواڈز‘ کے ہاتھوں جبری طور پر لاپتہ کیا جا رہا ہے۔ بعد ازاں ان کی مسخ شدہ لاشیں ویران علاقوں میں پھینک دی جاتی ہیں۔ بلوچ نوجوانوں کو انہی ریاستی اداروں کی جانب سے ماورائے عدالت کارروائیوں میں بے دردی سے قتل کیا جا رہا ہے۔ نوجوان سید احسان شاہ کو بھی اسی غیر آئینی طریقے سے بے رحمی کے ساتھ شہید کیا گیا۔

مزید کہا کہ جب میں نے اپنے بیٹے کے قاتلوں کے خلاف آواز بلند کی تو مجھے خاموش کرانے کے لیے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ بلوچستان میں جو بھی ظلم اور جبر کے خلاف بولتا ہے، اسے انصاف دینے کے بجائے جبری گمشدگی اور قتل کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ میں بلوچ قوم، دنیا بھر کے انسان دوست افراد اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے وابستہ لوگوں سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بلوچ قوم کی نسل کشی کے خلاف اپنا کردار ادا کریں۔