بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو بھیجے گئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں نے مستونگ، پنجگور اور ڈیرہ مراد جمالی میں تین مختلف حملوں میں قابض پاکستانی فوج کو نشانہ بناکر سات اہلکاروں کو ہلاک کردیا۔
ان حملوں میں قابض فوج کے قافلوں اور چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا۔
ترجمان نے کہاکہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے مستونگ کے علاقے اسپلنجی، مَرو میں قابض پاکستانی فوج کے قافلے کو اس وقت گھات لگاکر حملے میں نشانہ بنایا جب وہ بارہ گاڑیوں میں پیش قدمی کی کوشش کررہی تھی۔
انہوں نے کہا ہے کہ سرمچاروں نے راکٹوں اور دیگر بھاری ہتھیاروں سے قابض فوج کے قافلے کو نشانہ بنایا جبکہ بی ایل اے سنائپر ٹیم نے قابض فوج کو مزید جانی نقصانات سے دوچار کیا، حملے میں قابض فوج کے تین اہلکار موقع پر ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔
بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے دس فروری کو پنجگور کے علاقے پروم میں قابض پاکستانی فوج کے متعدد گاڑیوں پر مشتمل ایک قافلے کو گھات لگاکر نشانہ بنایا، سرمچاروں نے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کرکے قابض فوج کے چار اہلکاروں کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کردیا۔
ترجمان کا کہنا تھا قابض فوج نے اس دوران کواڈ کاپٹر کا استعمال کیا جس کو سرمچاروں نے مار گرایا۔
ترجمان نے کہا کہ ایک اور حملے میں بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے گذشتہ شب ڈیرہ مراد جمالی میں قابض پاکستانی فوج کے ایک چوکی کو دستی بم حملے میں نشانہ بنایا جس میں تین اہلکار زخمی ہوگئے، مذکورہ اہلکار ریلوے ٹریک کی کلئرینس کیلئے تعینات تھے۔
بی ایل اے ترجمان نے آخر میں کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے، اور واضح کرتی ہے کہ یہ حملے تواتر کیساتھ تب تک جاری رہینگے، جب تک قابض فوج بلوچ سرزمین سے نکلنے پر مجبور نہیں ہوتی۔


















































