لسانی تنوع اور بلوچ قومی یکجہتی کا سوال
تحریر: جعفر قمبرانی
دی بلوچستان پوسٹ
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ بلوچ ایک کثیرالسانی قوم ہے جہاں بلوچی براہوئی، سرائیکی، جدگالی، لاسی، کھیترانی و دیگر چھوٹے بڑے زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ملٹی لینگوئل ہونا اگرچہ ایک طرح سے بلوچ قوم میں تفریق پیدا کرنے والا ایک آلہ اور ہتھیار ہوسکتی ہے تو یہی نقطہ قوم کو یکجاہ کرنے کیلئے ہزار وجہ بھی دے سکتی ہے۔
بلوچ قوم کو چاہئیے کہ قومی یکجہتی میں اس کو بطور پل ( bridge) استعمال کرکے پوری قوم کو زبانوں کی تفریق سے نکال کر یکجاہ کریں۔ یہ ایک قابل غور بات ہے کہ کثیر زبان بولنے والے اقوام کو یکجاہ کرنے کیلئے اس قوم کے طلبہ تنظیموں سمیت سیاسی سماجی و ادبی اداروں کا اہم کردار ہے جن پر بلوچستان میں بحث کرنے کی گنجائش اب بھی باقی ہے۔
تاہم بلوچستان میں زبانوں کو بطور ہتھیار استعمال کرکے بلوچ قوم کو مختلف ٹکڑوں میں بانٹنے کی کوشش ہمیشہ سے ہوتا رہا ہے۔
چونکہ بلوچستان ایک نوآبادیاتی علاقہ ہے جسے برسوں سے قبضہ گیر ریاستوں نے اپنی طرز حکمرانی اور استعماریت کا شکار بنا کر مختلف حربوں سے کنٹرول کرنے اور حکومت کرنے کیلئے استعمال کرتے آئے ہیں۔ اسی لئے بلوچ قوم کا ملٹی لینگویل ہونا ہی اس کے خلاف استعمال ہوکر قوم کو ٹکڑوں میں بانٹنے میں معاون و مددگار ثابت ہوا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ قبضہ گیر ریاستوں نے بلوچستان میں اسی نقطے کو لیکر بلوچ قوم کو لسانی بنیادوں پر اقوام میں تقسیم کیا ہے کہ مختلف زبان ہونے نے نوآبادیاتی نظام کیلے راہے ہموار کئے ہوئے تھے اور تقسیم کرو اور حکومت کرو پالیسی میں بطور ہتھیار استعمال ہوئے۔ مثلاً براھوائی بولنے والے بلوچوں کو بحیثیت قوم سامنے لاکر نوآبادکاروں نے بلوچوں کو تقسیم کرنے اور براھوئی بولنے والے بلوچوں اور دیگر کے درمیان ایک مضبوط دیوار کھڑی کرنے کی ناکام کوشش کی تھی جو کہ آج تقریباً زمین بوس ہوکر اپنی موت آپ مر چکا ہے۔
اس کے علاوہ کثیر اللسانی ہونے کے باعث بلوچ قوم میں ایک زبان بولنے والوں کو دوسروں پر فوقیت اور ریاستی سطح پر تفریق سے آپسی اختلافات اور نفرت کو ہوا دی گئی ہے اور باہر سے آنے والے زبانوں اردو و انگریزی کو بلوچستان کی تمام زبانوں پر بالادست رکھا گیا ہے کہ بلوچ قوم اپنی زبانوں کو بھول کر استعمار کی دی ہوئی زبانوں میں تعلیم تربیت اور شناخت کو دھونڈتی رہے۔ اگرچہ چند بااثر لوگوں نے کمیشن و ترقی کے نام پر باہر کے زبانوں کو فوقیت دی ہوئی ہے تاہم بلوچستان میں مادری زبانوں کو فروغ دینے والوں کی بھی اچھی تعداد موجود ہے۔
اس حوالے سے فرانز فینن کا قول ہے کہ استعمار شدہ شخص جب نوآبادیاتی زبان بولتا ہے تو وہ نوآبادیاتی ثقافت کو قبول کرتا ہے۔” اور یہی نقطہ ہے جسے ہر عام وخاص بلوچ کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ نوآبادکاروں کی لائی گئی زبانیں بالادست نہ رہے۔
یہ بھی دیکھنے کو ملتی ہے کہ چند زبانوں کو مکمل ختم کرنے اور دبانے کی کوشش کی گئی ہے جن کو فروغ دیکر لسانی بنیاد پر بلوچ قوم کی تاریخ اور شناخت کا مسئلہ آسانی سے حل ہوسکتا تھا۔ مثلاً سرائیکی بولنے والے بلوچوں کو بلوچ قومیت بھلانے اور اپنی شناخت چھوڑنے کیلئے پہلے تو لسانی حوالے سے سرائیکی زبان کو دبایا گیا اور جب یہ عروج بام کو پہنچنے کی کوشش کی تو اسے قومیت سے جوڑ کر بلوچ قوم سے الگ کرنے کی سعی کی گئی۔ مگر آج بھی ڈیرہ جات و تونسہ میں بیٹھے لنڈ، لغاری، قیصرانی، بزدار خود کو بلوچ کہتے ہے حالاں کہ ان میں سے اکثر نہیں تو پچاس فیصد سرائکی بولتے ہیں۔
یاد رہے کہ تعلیم اور نصاب کے ذریعے بھی زہنی غلامی کو پروان چڑھایا جاسکتا ہے کہ نصاب میں مقامی زبانوں، تاریخ و ادب کو کمزور کرکے سامراجی بیانیہ شامل کیا جاتا ہے جس طرح نگوگی اپنی کتاب ڈی کالونازئیشن آف مائنڈ میں لکھتا ہے کہ “زبان ذہنی غلامی کا سب سے بڑا ہتھیار ہوتی ہے۔”
اسی طرح نوآبادیاتی طاقتیں زبان کی بنیاد پر نئی سرحدیں یا انتظامی اکائیاں بناکر ایک عظیم قوم میں دراڑیں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں جس طرح بلوچستان میں مکران، سلیمان، سروان و جھالاوان کے نام پر انتظامی اکائیوں کا ذکر چھیڑ کر بارہا تقسیم کرنے کی کوشش ہوتی رہی ہے۔
اور سب سے بڑا مسئلہ یہاں زبانوں کو آپس میں ٹکرا کر قومی شناخت کی بحران کو پیدا کرنے کا ہے کہ بلوچ قوم جیسے کثیر اللسانی قوم کو اسی بنیاد پر شناخت کے مسئلے سے دو چار کیا گیا ہے۔
لحاظہ بلوچستان میں سیاسی سماجی و لسانی اداروں کو چاہئیے کہ اس نقطے پر غور کریں کہ کثیر اللسانی ہونے کے باوجود بھی وہ بلوچ قوم کو کس طرح متفق و متحد کرسکتے ہیں۔
اس حوالے سے پہلا اور ضروری امر قوم پرستی یعنی بلوچیت کو حد درجہ فروغ دینا ہے کہ زبانوں کی بنیاد پہ تقسیم ہونے کا سوال ہی پیدا نا ہو۔ اگر زبانوں کو لسانی بنیاد پر فروغ دیکر ایک ہی قومی دھارے میں شامل کیا جائے تو یہ قوم کو تقسیم کرنے کے بجائے اسکی خوبصورتی بن جاتی ہے۔ جس طرح آج بلوچستان میں بلوچی و براہوئی زبان کے مختلف لہجوں نے کیا ہے کہ بلوچی کے کوہ سلیمانی لہجہ اپنے آپ میں ایک خوبصورتی رکھتی ہے تو وہی مکرانی، رخشانی و لانگوی( منگوچر میں بولی جانے والی بلوچی لہجہ) لہجوں کا اپنا ایک لسانی شناخت اور مٹھاس ہے۔ وہی براھوئی زبان کے جھالوانی، ساراوانی، رخشانی و سریابی لہجے اور بول چال ہے کہ زبان کو انتہائی قد آور اور مہزب بنا چکے ہیں۔
دوسرا اور قابل غور نقطہ یہ ہے کہ تعلیم میں مادری اور علاقائی زبانوں کو شامل کرکے ابتدائی تعلیم انہیں زبانوں میں ہی دینا شروع کیا جائے۔ یونیسکو کی جانب سے خاص کر اس چیز پر زور دیا جاتا ہے کہ قومیت کو زندہ رکھنے کیلئے قومی و علاقائی زبانوں میں ابتدائی تعلیم دی جائے جس سے سیکھنے کی صلاحیتوں میں بے تحاشہ اضافہ دیکھنے کو ملتی ہے۔ تاہم رابطہ کاری کیلئے ایک ہی زبان ساری قوم کیلے فروغ دیا جانا اشد ضرور ہے جو کہ تمام بولی بولنے والوں کو ایک ساتھ جوڑ سکتی ہو۔ تاہم اس بات کا خیال رکھنا بھی اشد ضروری ہے کہ ایک ہی زبان جو رابطہ کاری کے لئے استعمال کیا جاتا ہو اسے دیگر زبانوں سے بالادست نا رکھا جائے ورنہ یہ قوم کو تقسیم کرنے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
علاوہ ازیں تمام چھوٹے زبانوں مثلا لاسی، جدگالی، سرائیکی و دیگر کو فروغ دینا اور کسی ایک زبان کو دوسروں پر فوقیت نہ دینا بھی ہمارا قومی ذمہ داری ہے۔ خیال رہے کہ قومی یکجہتی کیلے ضروری ہے کہ ایک ہی زبان کو تمام پر تونپنے کی کوشش نا کی جائے جو کہ باعث تفریق و امتیاز بن سکتی ہے جس سے لوگ اپنی اپنی زبانوں کو لیکر ایک مسئلہ بنا دیتے ہیں اور قومی یکجہتی کا شیرازہ بکھر سکتا ہے۔ لہٰذا تمام زبانوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے اور اہمیت دی جائے تاکہ لسانیات کا فرق قومی یکجہتی کو ٹھیس پہنچائے بنا اپنی وجود برقرار رکھ سکیں۔
قوم کو یکجا کرنے کیلئے قوم کو ایک نقطے پر لانے کی کوشش کی جائے۔ ممکن ہے کہ بہت سے اقوام اُس ایک نقطے کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہو کہ وہ مذہب، قومیت، یا نظریے کو نقطہ بناکر قوم کو متحد کرنے کی سعی کریں۔ مگر بلوچ قوم کے پاس نقطہ تلاش کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہی کہ بلوچ قومیت کے نام پر سیاسی سماجی و ادبی تنظیم اپنا کردار ادا کرکے بلوچ قوم کو ایک قومی دھارے میں شامل کر سکتے ہیں۔
تاہم یہاں ایک نقطہ قابل غور ہے کہ قومیت کو صرف زبان سے جوڑا نہ جائے بلکہ مشترکہ تاریخ، اقدار اور آئینی اصولوں سے جوڑا جائے جس طرح سوئیزر لینڈ میں جرمن، فرانسیسی، اطالویوں اور رومانش زبانیں بولی جاتی ہیں مگر ایک وفاقی نظام اور قومی نظریہ نے تمام کو یکجا کیا ہوا ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔












































