قیادت کی جبری قید کے ایک سال مکمل ہونے پر ایک ماہ پر مشتمل آگاہی مہم کا آغاز کیا جائے گا۔ ‎بلوچ یکجہتی کمیٹی

0

‎بی وائی سی نے کہا ہے کہ جبر کے ذریعے آوازوں کو خاموش کرنے کی پالیسی کو ایک سال مکمل ہونے جا رہا ہے، بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، مرکزی رہنما بیبگر بلوچ، صبغت اللہ شاہ جی، گل زادی اور بیبو بلوچ کی جبری قید کو ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر بلوچ یکجہتی کمیٹی 20 فروری سے 20 مارچ تک ایک ماہ پر محیط آگاہی مہم کا اعلان کرتی ہے۔

تنظیم نے کہا ہے بلوچ سرزمین پر جاری جبر ہر روز ایک نئے اور ہولناک چہرے کے ساتھ سامنے آ رہا ہے، اس جبر کو چھپانے اور متاثرین کو احتجاج اور فریاد کے بنیادی حق سے محروم رکھنے کے لیے ریاستی اداروں نے سخت ترین جبر کی پالیسی اپنائی ہے۔ 

گزشتہ سال 19 مارچ سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے خلاف جو کریک ڈاؤن شروع کیا گیا اور جو آج تک اسی شدت کے ساتھ جاری ہے، وہ کوئی الگ یا وقتی اقدام نہیں بلکہ ان پالیسیوں کا تسلسل ہے جن کا مقصد بلوچ معاشرے کو خاموش رکھ کر جبر کو تیز کرنا اور سیاسی مزاحمت کو کچلنا ہے۔

انہوں نے کہا مارچ 2024 سے لے کر آج 20 فروری 2025 تک مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی، فوجی آپریشنز، ٹارگٹ کلنگ، جبری گمشدگیوں، جبری بے دخلیوں اور جعلی مقابلوں کے واقعات نے بلوچستان کو مسلسل خوف اور غیر یقینی کی فضا میں جکڑ رکھا ہے۔ 

انہی حالات کے تناظر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کی مسلسل قید، ضمانتوں میں تاخیر اور سیاسی سرگرمیوں پر قدغن اس وسیع تر جبر کا حصہ نظر آتی ہے۔

انکا کہنا تھا بلوچستان میں جاری اس بدترین ریاستی جبر کے دوران ہر باشعور بلوچ کے لیے اپنی قومی بقا اور اجتماعی تحفظ کو یقینی بنانا کی احساس زیادہ گہرا ہوتا جارہا ہے، اور یہی وہ اجتماعی جدوجہد ہے جس کے باعث آج بی وائی سی کے رہنما قید و بند کا سامنا کر رہے ہیں اور ہزاروں نوجوان جبری گمشدگی کا شکار ہیں۔

‎بلوچ یکجہتی کمیٹی اپنے رہنماؤں کی اس ایک سالہ جبری قید اور اس دوران پیش آنے والے واقعات کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے پورے ایک ماہ تک منظم آگاہی مہم چلائے گی، اس مہم کے دوران سوشل میڈیا ہیش ٹیگز، آرٹ بطور مزاحمت، ویبینارز، پمفلٹنگ، ویڈیو پیغامات، قومی و بین الاقوامی یکجہتی مہمات، کتابچوں اور پمفلٹس کی اشاعت، علامتی احتجاج اور دیگر پرامن ذرائع کے ذریعے اپنی آواز بلند کی جائے گی تاکہ جاری جبر کی مکمل تصویر دنیا کے سامنے رکھی جا سکے۔

تنظیم نے کہا یے مہم قانونی حراست کے خلاف ہوگی بلکہ بلوچستان میں جاری ہر اس عمل کی نشاندہی بھی کرے گی جس کے ذریعے سیاسی کارکنوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، چاہے وہ جبری گمشدگیاں ہوں، فورتھ شیڈول کے تحت پابندیاں ہوں یا اجتماعی سزا کے اقدامات۔ 

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کی قید محض ایک واقعہ نہیں بلکہ بلوچ سماج پر مسلط وسیع تر جبر کا مظہر ہے۔

انہوں نے آخر میں کہا ہے ہم تمام سیاسی و انسانی حقوق کے کارکنوں اور باشعور حلقوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس مہم میں بھرپور شرکت کریں، کیونکہ بقا اور انصاف کی جدوجہد ایک اجتماعی ذمہ داری ہے اور اس میں ہر فرد کا کردار ناگزیر ہے۔