سرفراز بگٹی اپنی نااہلی چھپانے کے لیے سردار اختر مینگل کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ بی این پی

42

بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ نے پارٹی کے سینئر رہنماؤں کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور موجودہ حکومت پر شدید تنقید کی۔

انہوں نے وزیراعلیٰ کی جانب سے پارٹی قائد سردار اختر مینگل کے خلاف پریس ٹاک کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیان وزیراعلیٰ کی اپنی نااہلی چھپانے کی ناکام کوشش ہے۔ ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا کہ وزیراعلیٰ وہی شخصیت ہیں جنہوں نے تین سال قبل بطور سینیٹر یہ بیان دیا تھا کہ اگر بلوچستان کے نوجوانوں کو حقوق نہ دیے گئے تو وہ بندوق اٹھائیں گے۔

آج وہی وزیراعلیٰ سردار اختر جان مینگل کو نشانہ بنا رہے ہیں، کیونکہ فارم 47 کے ذریعے آنے والے ممبران جانتے ہیں کہ سردار اختر مینگل بلوچستان کے حقیقی مسائل اجاگر کر رہے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ بی این پی کی پالیسی ہے کہ بندوق بلوچستان کا حل نہیں، کیونکہ تشدد کی صورت میں معصوم جانیں ضائع ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کٹھ پتلی حکومت کی پالیسیوں کے باعث نوجوانوں میں نفرت بڑھ رہی ہے اور اسٹیبلشمنٹ ایسی حکومت مسلط کرنے کے نتائج دیکھ چکی ہے۔

ساجد ترین نے کہا کہ 8 فروری کے مبینہ بوگس انتخابات سے قبل سردار اختر جان مینگل نے جن خدشات کا اظہار کیا تھا، آج وہی حالات ملک میں نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت امن کے بجائے کرپشن میں دلچسپی رکھتی ہے، اور جب صوبے کے 12 اضلاع حملوں کی زد میں تھے تو حکومتی رٹ کہیں نظر نہیں آئی۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے، جس کا حل صرف سنجیدہ اور مؤثر مذاکرات میں ہے۔ بی این پی سردار اختر مینگل کی قیادت میں مظلوم اقوام کے لیے آواز اٹھاتی رہے گی، اور پریس کانفرنسز، جعلی کیسز اور کارروائیاں پارٹی کو اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹا سکتیں۔