لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے دوران وزیراعظم پاکستان کے معاونِ خصوصی برائے سیاسی و عوامی امور اور سابق وزیرِ داخلہ رانا ثناء اللہ کے لاپتہ افراد سے متعلق بیان پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما سمی دین بلوچ نے شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا ریاست جبری گمشدگیوں کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں جواز فراہم کررہی ہے۔
لاہور میں سول سوسائٹی کی رہنما شیما کرمانی کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما اور جبری لاپتہ ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی صاحبزادی سمی دین بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں جیسے انسانی المیے کو ختم کرنے کے بجائے ریاستی ارکان کی جانب سے دنیاء کے سامنے کھڑے ہوکر جبری گمشدگیوں کو جائز قرار دیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ رانا ثناء اللہ کہہ رہے تھے کہ جبری گمشدگیاں تو ہوں گی، انہیں ختم نہیں کیا جائے گا، اور ان پر کوئی آئین و قانون بھی لاگو نہیں ہوگا، ساتھ ہی وہ جبری گمشدگیوں پر مرغی اور انڈے جیسی مضحکہ خیز مثالیں دے رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ رانا ثناء اللہ براہِ راست عام بلوچ اور بلوچستان کے رہائشیوں کو دھمکا رہے تھے کہ جب تک بلوچستان میں سیاسی مسئلہ اور انسرجنسی موجود ہے، وہاں لوگوں کو جبری طور پر غائب کیا جاتا رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف اسی حکومت کے وزیرِ دفاع کہتے ہیں کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا مسئلہ فراڈ ہے، لاپتہ افراد پہاڑوں پر چلے جاتے ہیں یا مسلح تنظیموں میں شامل ہوجاتے ہیں، اور اِدھر یہ جناب خود اعتراف کر رہے ہیں کہ جبری گمشدگیاں تو ہوتی رہیں گی۔
سمی دین بلوچ نے کہا کہ رانا ثناء اللہ کا بیان جبری گمشدگیوں کا واضح اعتراف ہے، اور وہ بار بار اس مسئلے کو کبھی بلوچستان کی انسرجنسی سے جوڑتے ہیں اور کبھی کہتے ہیں کہ لوگ پہاڑوں پر چلے جاتے ہیں۔
ایک صحافی کے سوال کہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں پنجابیوں کو شناختی کارڈ دیکھ کر قتل کیا جاتا ہے، سمی دین بلوچ نے کہا اس بات کا جبری گمشدگیوں سے کیا تعلق؟ اسلام آباد اور لاہور میں بلوچ طلبہ کی پروفائلنگ کی جاتی ہے، انہیں روز شناختی کارڈ دکھانا پڑتا ہے اور متعدد بلوچ طلبہ کو صرف بلوچ ہونے یا بلوچستان کا شناختی کارڈ رکھنے کی بنیاد پر انہی شہروں سے جبری لاپتہ کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج بھی متعدد بلوچ طلبہ اسلام آباد، لاہور، راولپنڈی اور پنجاب کے دیگر تعلیمی اداروں سے شناخت کے بعد لاپتہ کیے گئے ہیں، رانا ثناء اللہ خود جبری گمشدگیوں کا اعتراف کر رہے ہیں تو انہیں بتانا چاہیے کہ ریاست شناختی کارڈ دیکھ کر لوگوں کو کیوں لاپتہ کررہی ہے۔
آخر میں سمی دین بلوچ نے کہا کہ ریاست نے آج دنیا کے سامنے جبری گمشدگیوں کا اعتراف کیا ہے اور ہم بلوچ یکجہتی کمیٹی کے پلیٹ فارم سے ان ناانصافیوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف اپنی تحریک جاری رکھیں گے اور لاپتہ افراد کی بازیابی کی جدوجہد بھی جاری رہے گی۔
















































