خاموشی کے سائے میں مرتا ہوا پنجگور
تحریر: شپگرد بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
آج میں آپ سے کوئی گھما پھرا کر بات کرنے نہیں آیا۔ آج بات سیدھی ہے، کڑوی ہے اور سچ ہے۔ پنجگور میں جو خاموشی چھائی ہوئی ہے، وہ محض سناٹا نہیں، یہ ہمارے دلوں، ہمارے ضمیروں اور ہمارے مستقبل پر پھیلتا ہوا ایک سیاہ سایہ ہے۔ وہی پنجگور، جہاں کبھی ایک نوجوان داد جان کے لیے پورا شہر ایک دل بن کر دھڑکتا تھا، آج خوف کے بوجھ تلے سہم کر بیٹھا ہے۔ ظلم کے سامنے اٹھنے والی آوازیں یا تو دبا دی گئیں یا خود ہی تھک کر خاموش ہو گئیں، اور یوں ہمارا پنجگور آہستہ آہستہ خاموشی کے حوالے ہوتا جا رہا ہے۔
آج ہر زبان پر ایک ہی جملہ ہے:
“جب کوئی اور بولے گا، تو ہم بھی بولیں گے۔”
مگر وہ “کوئی اور” آخر ہے کون؟
کیا پنجگور ہم سب کا نہیں؟
کیا یہ نوجوان ہمارے اپنے نہیں؟
یا ہم سب صرف اپنی باری کے انتظار میں ہیں، اس دن کے انتظار میں جب زخم ہمارے اپنے دروازے پر دستک دیں؟
روز اس سرزمین پر ایک اور نوجوان کی مسخ شدہ، تشدد زدہ لاش پھینک دی جاتی ہے، اور ہم خاموش تماشائی بنے دیکھتے رہتے ہیں۔ چند لمحوں کی افسوس بھری باتیں، دو آنسو، ایک آہ اور پھر سب کچھ معمول بن جاتا ہے۔ جیسے یہ کوئی سانحہ نہیں، بلکہ روزمرہ کی ایک خبر ہو۔ قبرستان پھیلتے جا رہے ہیں، نوجوانوں کی لاشیں ہماری آنکھوں کے سامنے گرتی ہیں، اور ہم دل ہی دل میں خود کو یہ کہہ کر تسلی دیتے رہتے ہیں کہ شاید کوئی اور کھڑا ہوگا، شاید کوئی اور آواز بنے گا۔
مگر سچ یہ ہے کہ یہ خاموشی کوئی حفاظت نہیں، یہ جرم ہے۔ یہ بے بسی ہے۔ یہ وہ دل توڑ دینے والا احساس ہے کہ ہم اپنی زمین، اپنی ماؤں اور اپنے نوجوانوں کے لیے اس وقت تک نہیں بولتے، جب تک نقصان ہمارے اپنے دروازے پر نہ آ کھڑا ہو۔
خدا کے لیے، سیاست کو ایک طرف رکھ دیں۔ اختلافات، پارٹیوں کے مفادات، ذاتی خوف، سب کو ابھی یہیں دفن کر دیں۔ یہ وقت بحث کا نہیں، یہ وقت ایک ہونے کا ہے؛ اپنے خوف کو مات دینے کا ہے؛ اپنی قوم کے حق میں سینہ تان کر کھڑے ہونے کا ہے۔ آج اگر ہم خاموش رہے، اگر ہم نے اپنے ضمیر کو نہ جگایا، تو کل نہ صرف پنجگور بلکہ ہم سب اپنے گھروں میں قید ہو جائیں گے۔ یہ سناٹا، یہ قبرستان، یہ خوف، یہ سب ہماری اپنی خاموشی کی پیداوار ہوں گے۔
قومیں ظلم سے نہیں مرتیں، قومیں خاموشی سے مرتی ہیں۔ اگر آج ہم نہ اُٹھے، اگر آج ہم نے خاموشی کی زنجیر نہ توڑی، تو ہمارے نوجوان ایک ایک کر کے اسی طرح ہم سے بچھڑتے رہیں گے—کبھی کسی گلی کے کونے سے، کبھی کسی ویران راستے سے، کبھی کسی بے نام قبر سے۔ ہم ہر بار تھوڑا سا روئیں گے، تھوڑی سی مذمت کریں گے، اور پھر زندگی کو “معمول” کہہ کر آگے بڑھ جائیں گے، یہاں تک کہ ایک دن یہی معمول ہمیں بھی نگل جائے گا۔ اُس دن نہ صرف ہمارے نوجوان ختم ہوں گے بلکہ ہماری پہچان، ہماری غیرت اور ہمارا مستقبل بھی مٹی کے نیچے دفن ہو چکا ہوگا۔
یاد رکھو:
آج کا قدم کل کی زندگی ہے۔
اگر آج ہم بولے نہیں، تو کل ہمارے بولنے کے لیے کوئی باقی نہیں رہے گا۔
اور اگر آج ہم بولیں، اگر آج ہم ایک ہوں، تو ہم اپنے پنجگور کو بچا سکتے ہیں۔
اب وقت آ چکا ہے۔
اُٹھو، بولو اور اپنے پنجگور کو زندہ رکھو۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































