حکومت نے بی ایل اے سربراہ اور دیگر کو انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے انعام مقرر کرلی۔
بلوچستان کی حکومت نے 39 افراد کے نام اور تصاویر اخبارات میں شائع کرتے ہوئے انہیں انتہائی مطلوب ملزم قرار دیا ہے اور ان کے حوالے معلومات فراہم کرنے پر قیمت مقرر کی ہے۔
حکومت کی جانب سے جاری کردہ فہرست میں بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب، رحمان گل کے علاوہ، بیرونِ ملک مقیم ایف بی ایم کے سربراہ حیربیار مری اور بی آر پی کے سربراہ براہمداغ بگٹی سمیت متعدد جلا وطن سیاسی رہنماؤں کے نام بھی شامل ہیں۔
بدھ کی صبح کوئٹہ کے بڑے اخبارات کے صفحۂ اول پر نصف صفحے پر مشتمل ایک اشتہار شائع کیا گیا، جس میں ان افراد کے نام، عرفیت، پتے اور تصاویر شامل ہیں جہاں انھیں انتہائی مطلوب افراد قرار دیا گیا ہے۔
اشتہار میں ان کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے پانچ لاکھ روپے سے 25 کروڑ روپے تک کے انعامات کا اعلان کیا گیا ہے، جو مجموعی طور پر ایک ارب 38 کروڑ روپے بنتا ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ مستند، درست اور قابلِ عمل معلومات موصول ہونے پر فوری کارروائی کی جائے گی، جبکہ اطلاع فراہم کرنے والے کی شناخت مکمل طور پر خفیہ رکھی جائے گی۔
فہرست میں سب سے زیادہ انعام بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے سربراہ بشیر زیب اور بی ایل اے کی ذیلی تنظیم مجید بریگیڈ کے مبینہ کمانڈر رحمان گل کے لیے مقرر کیا گیا ہے، جن کے حوالے معلومات فراہم کرنے والوں 25، 25 کروڑ روپے دیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
واضح رہے بی ایل اے سربراہ بشیر زیب کو اس سے قبل بھی متعدد مقدمات میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ پاکستانی سیکورٹی حکام رحمان گل پر مجید برگیڈ کی قیادت کرنے کا بھی الزام عائد کرتے ہیں۔
فہرست میں شامل براہمداغ بگٹی اور حیربیار مری یورپی ممالک میں مقیم ہیں جبکہ سفیر بلوچ کا تعلق بلوچ نیشنل مومنٹ سے ہے جو ایک سیاسی تنظیم ہے۔















































