بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر بڑھتی ہوئی بین الاقوامی توجہ کے جواب میں پاکستانی حکام کی جانب سے قانونی کارروائیوں اور سفارتی مہمات کا آغاز کیا گیا ہے، سوال یہ ہے کہ آیا پاکستان ایک گہرے نظامی بحران کی جانب بڑھ رہا ہے۔
پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ بلوچستان کئی دہائیوں سے تنازع، غیر متوازن طاقت کی تقسیم اور سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا شکار رہا ہے، حالیہ عرصے میں صورتحال مزید بگڑ گئی ہے جہاں جبری گمشدگیوں میں اضافہ ہوا ہے جن میں خواتین کی جبری گمشدگی بھی شامل ہیں اور پرامن انسانی حقوق کے کارکنوں کو منظم انداز میں مجرم بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔
اس پیش رفت کو نہ صرف اندرونی طاقت کے ڈھانچوں بلکہ صوبے پر بڑھتی ہوئی عالمی توجہ کے تناظر میں بھی سمجھنا ضروری ہے۔
بین الاقوامی پذیرائی اور ریاستی جوابی ردِعمل
2024 میں ماہ رنگ بلوچ کو ٹائم میگزین کی جانب سے “دنیا کے 100 ابھرتے ہوئے رہنماؤں” میں شامل کیا گیا، جس کے بعد وہ بلوچستان میں سول سوسائٹی کی جدوجہد کی عالمی علامت بن گئیں۔
اسی سال انہیں بی بی سی کے 100 با اثر خواتین کی فہرست میں بھی شامل کیا گیا، جبکہ 2025 میں انہیں نوبل پیس پرائز کے لیے نامزد کیا گیا، اس عالمی پذیرائی کے بعد پاکستان کے اندر واضح ریاستی ردِعمل دیکھنے میں آیا، انسانی حقوق کے حلقوں کے مطابق ریاست نے سیاسی، قانونی اور میڈیا ذرائع کے ذریعے بیانیے پر کنٹرول سخت کردیا ہے۔
جب کسی انسانی حقوق کی کارکن کو عالمی اعزاز ملے اور اسی وقت اسے اپنے ملک میں قانونی کارروائیوں کا سامنا ہو، تو سول سوسائٹی کی دستاویزات اور ریاستی سفارتی بیانیے کے درمیان واضح تضاد پیدا ہو جاتا ہے۔
صحافیوں کی گرفتاری اور شہری آزادیوں پر کریک ڈاؤن
اسی دوران کئی نمایاں آوازوں کو قید کیا گیا ہے انسانی حقوق کی وکلا ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ، جو بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور ریاستی زیادتیوں کی دستاویز سازی کرتے رہے ہیں اس وقت قید میں ہیں، اسی طرح کارکن ہادی چٹھہ، جو اقلیتوں کے مسائل اجاگر کرتے اور سول سوسائٹی کو مضبوط بنانے پر کام کر رہے تھے بھی گرفتار ہیں۔
یہ گرفتاریاں ایک وسیع تر رجحان کا حصہ دکھائی دیتی ہیں، جس میں ریاست اُن افراد کو نشانہ بنا رہی ہے جو سیکیورٹی صورتحال کے سرکاری مؤقف کو چیلنج کرتے ہیں جو سیاسی نظام تنقید کا جواب مجرمانہ کارروائیوں سے دیتا ہے، وہ اپنی ہی ساکھ کو کمزور کر دیتا ہے۔
ناروے کا دورہ: نمائندگی یا بیانیے پر کنٹرول؟
15 سے 17 فروری 2026 کے درمیان بلوچستان سے ایک وفد نے ناروے کا دورہ کیا، جو پاکستان کے سفارت خانے کے زیرِاہتمام تھا۔
وفد کی قیادت سابق نگراں وزیرِاعظم انور الحق کاکڑ نے کی، جبکہ سینیٹر دنیش کمار اور سلیم احمد کھوسہ بھی اس وفد میں شامل تھے، بلوچستان کے وزیرِاعلیٰ سرفراز بگٹی باضابطہ طور پر وفد کا حصہ تھے، مگر نامعلوم وجوہات کی بنا پر شریک نہ ہو سکے۔
بلوچستان میں تاریخی طور پر عسکری اداروں کی بالادستی رہی ہے، اور کاکڑ اپنے دورِ اقتدار میں سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ قریبی طور پر کام کرتے رہے، اس تناظر میں وفد کی تشکیل کو بلوچستان کی سول سوسائٹی کی وسیع نمائندگی کے بجائے ریاستی بیانیہ پیش کرنے کی کوشش سمجھا جا سکتا ہے۔
بین الاقوامی فریقوں کے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ وہ کس سے مل رہے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ کس نظام اور ڈھانچے کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
پاکستان میں عدالتی نظام دباؤ میں
اسی دوران عدالتی نظام میں سنگین مسائل کی رپورٹس سامنے آ رہی ہیں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت اور ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے انسدادِ دہشت گردی عدالتوں میں جانبدارانہ کارروائیوں کی نشاندہی کی ہے، جن میں ججوں کا معاندانہ رویہ اور اعتراضات کے باوجود مقدمات کو دوسری عدالتوں میں منتقل نہ کرنا شامل ہے۔
مزید یہ کہ سپریم کورٹ نے ضمانت سے متعلق کئی مقدمات میں مہینوں تک فیصلے محفوظ رکھے، بغیر کسی واضح وضاحت کے، جب ذاتی آزادی سے متعلق عدالتی فیصلے بلاجواز مؤخر ہوں، تو عدلیہ کی خودمختاری اور قانون کی حکمرانی پر عوام کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔
وسیع تر قومی تناظر
بلوچستان کی صورتحال کو تنہا نہیں دیکھا جا سکتا سابق وزیرِاعظم عمران خان کی گرفتاری و قید، میڈیا پر سخت سنسرشپ، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی بندش اور سیاسی مخالفین کے خلاف عدالتی کارروائیوں نے پاکستان میں پولرائزیشن اور ادارہ جاتی عدم استحکام کو بڑھایا ہے۔
فوج اور سیکیورٹی اداروں پر تنقید کا جواب بڑھتی ہوئی قانونی کارروائیوں سے دیا جا رہا ہے، جبکہ صحافی دباؤ اور خود سنسرشپ کی شکایات کر رہے ہیں۔
ان تمام عوامل کا مجموعی نتیجہ یہ ہے کہ طاقت کا ارتکاز سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں میں ہے اور پاکستان میں سول اداروں کی کمزوری جمہوری گنجائش میں مسلسل کمی شامل ہے۔
اس تناظر میں بلوچستان ایک عدسے (magnifying glass) کی مانند ہے: جو طرزِ عمل پہلے حاشیائی اور تنازعات زدہ علاقوں میں آزمایا جاتا ہے، وہ بعد ازاں پورے ملک میں معمول بن جاتا ہے۔
کیا پاکستان نظامی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے؟
جو ریاست سیاسی نظام تنقید کا جواب تاخیری عدالتی فیصلوں، بڑھتی سنسرشپ اور کارکنوں کی مجرمانہ کارروائیوں سے دیتا ہے وہ نہ صرف بین الاقوامی تنہائی بلکہ اندرونی عدم استحکام کا بھی خطرہ مول لیتا ہے۔
پاکستان میں معاشی دباؤ سیاسی تقسیم اور کمزور ہوتی ادارہ جاتی ساکھ ایک نازک صورتحال پیدا کررہی ہے۔
حقیقی قانونی تحفظ، خودمختار اداروں اور کھلے سول اسپیس کے بغیر، پاکستان آہستہ آہستہ آمرانہ استحکام کی جانب بڑھتا چلا جائے گا تاریخ بتاتی ہے کہ ایسے راستے شاذ و نادر ہی استحکام پر منتج ہوتے ہیں بلکہ اکثر نظامی بحران پر ختم ہوتے ہیں۔
یہ کالم نارویجن زبان میں یوٹرپ “روشنی” پر مقامی زبان میں صحافی اور گالم نگار اراش مرادی کی جانب سے تحریر کی گئی تھی جسے دی بلوچستان پوسٹ اپنے کارئین کے لئے اردو میں پیش کررہی ہے۔













































