حوا جان: مزاحمت کی سربلند علامت ۔ وسیمہ بلوچ

49

حوا جان: مزاحمت کی سربلند علامت 

تحریر: وسیمہ بلوچ 

دی بلوچستان پوسٹ

کچھ لوگ زندگی میں محض انسان بن کر نہیں آتے، وہ ایک مکمل کہانی، ایک خواب اور ایک علامت بن کر آتے ہیں۔ ان کی موجودگی دلوں میں روشنی بھرتی ہے، اور ان کی جدائی روح میں ایسا خلا چھوڑ جاتی ہے جو وقت کے ساتھ بھی پر نہیں ہوتا۔ وہ چلے بھی جائیں تو ان کی یادیں، ان کی باتیں، ان کا حوصلہ اور ان کا نظریہ زندہ رہتا ہے۔

حوا جان بھی ایسی ہی ایک ہستی تھیں ایک نام نہیں، ایک احساس؛ ایک وجود نہیں، ایک عہد؛ ایک زندگی نہیں، ایک لازوال قربانی۔ ان کی یاد میرے لیے صرف ماضی کا ایک باب نہیں، بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے جو مجھے آج بھی راستہ دکھاتی ہے، ہمت دیتی ہے اور لکھنے پر مجبور کرتی ہے۔

میں جب بھی ان کے بارے میں سوچتی ہوں تو مجھے ان کی آواز سنائی دیتی ہے، ان کی مسکراہٹ دکھائی دیتی ہے، اور وہ خواب یاد آتے ہیں جو انہوں نے اپنی آنکھوں میں سجائے تھے۔ انہی یادوں کے سہارے آج میں یہ الفاظ تحریر کر رہی ہوں۔

حوا جان اکثر بڑی معصومیت اور امید کے ساتھ کہا کرتی تھیں:

“میں 2026 میں دلہن بنوں گی۔“

آج یہ جملہ میرے لیے ایک نیا مفہوم رکھتا ہے۔ وہ واقعی دلہن بن گئیں مگر کسی فرد کی نہیں، اپنے وطن کی۔ انہوں نے سرخ لباس کے بجائے سرخ لہو کا انتخاب کیا، اور اپنی ذات کو مٹی کے نام کر دیا۔

یہ بات دل کو اداس نہیں کرتی، بلکہ فخر سے بھر دیتی ہے کہ انہوں نے عام راستہ نہیں چنا ایک عظیم راستہ چنا۔

حوا جان کا خواب صرف ذاتی خوشیوں تک محدود نہیں تھا۔ ان کی سوچ میں ہمیشہ اپنے لوگوں کا درد، اپنی سرزمین کی محبت اور اپنے وطن کی آزادی کی آرزو شامل رہتی تھی۔ وہ ایک مضبوط، باشعور اور بے خوف لڑکی تھیں، جو خاموش رہ کر جینے کی بجائے حق کے لیے آواز بلند کرنا جانتی تھیں۔

وہ چاہتی تھیں کہ میں لکھوں، بولوں، اپنے احساسات کو لفظوں میں ڈھالوں۔ مجھے آج بھی وہ دن اچھی طرح یاد ہے جب میں نے پہلی بار قلم اٹھایا اور سربلند جان کے نام پر ایک تحریر لکھی۔ وہ تحریر شائع ہوئی تو سب سے زیادہ خوشی ھوا جان کو ہوئی۔ انہوں نے فوراً مجھے پیغام بھیجا:

“آج مجھے بہت خوشی ہوئی ہے کہ تم نے لکھنا شروع کیا ہے، کبھی لکھنا مت چھوڑنا۔”

وہ چند لفظ میرے لیے صرف تعریف نہیں تھے، ایک ذمہ داری تھے، ایک حوصلہ تھے، ایک راستہ تھے۔ میں نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ میں کبھی لکھنا نہیں چھوڑوں گی۔ آج وہ میرے ساتھ موجود نہیں، مگر ان کا دیا ہوا اعتماد میرے لفظوں میں زندہ ہے۔ میرا قلم آج بھی انہی کے خوابوں اور امیدوں کا امین ہے۔

حوا جان میری صرف دوست نہیں تھیں۔ وہ میری بڑی بہن جیسی تھیں۔ میں نے انہیں کبھی دوست کہہ کر مخاطب نہیں کیا، ہمیشہ بہن کی طرح مانا۔ ان کی محبت میں شفقت تھی، ان کی باتوں میں رہنمائی تھی، ان کے لہجے میں ایک عجیب سا اپنائیت بھرا یقین تھا۔ جب بھی میں مایوس ہوتی، وہ مجھے ہمت دیتیں۔ جب بھی میں خاموش ہوتی، وہ مجھے بولنے پر آمادہ کرتیں۔

آج وہ ہمارے درمیان نہیں رہیں، مگر ان کی باتیں میرے ساتھ سانس لیتی ہیں۔ ان کی یاد میرے دل کے کسی کونے میں نہیں، بلکہ پورے دل میں بسی ہوئی ہے۔

وہ اپنے وطن کے لیے شہید ہو گئیں، مگر ان کا نام کبھی مٹنے والا نہیں۔ ان کی قربانی نے انہیں ایک عام انسان سے بلند کر کے ایک نظریہ بنا دیا ہے۔ ھوا جان اب صرف ایک لڑکی کا نام نہیں رہیں، بلکہ جرات، وفا اور مزاحمت کی علامت بن چکی ہیں۔ وہ ہمیں یہ سکھا گئیں کہ سچی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔ جو لوگ اپنے مقصد کے لیے جیتے ہیں، وہ مر کر بھی زندہ رہتے ہیں۔ ان کا لہو گواہی دے گیا کہ آزادی اور سچائی کا راستہ آسان نہیں ہوتا، مگر باوقار ضرور ہوتا ہے۔

ہم عہد کرتے ہیں کہ ان کی بہادری اور ان کے خواب کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔ ان کا راستہ ہمارا راستہ رہے گا، ان کا مقصد ہماری منزل، اور ان کی قربانی ہماری طاقت۔

وطن کی مٹی بڑی خوش نصیب ہوتی ہے جب اسے اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کا لہو نصیب ہوتا ہے۔ ھوا جان نے اسی مٹی سے اپنا رشتہ خون سے جوڑ دیا۔ وہ جب شہید ہوئیں تو صرف ایک جان نہیں گئی، بلکہ ایک چراغ روشن ہو گیا ایسا چراغ جو اندھیروں میں بھی راستہ دکھاتا ہے، جو مایوسی کے موسم میں بھی امید کی کرن بن جاتا ہے۔

انہوں نے اپنی جان دے کر یہ سچ ثابت کیا کہ وطن صرف زمین کا ٹکڑا نہیں ہوتا، بلکہ ایک خواب ہوتا ہے ایسا خواب جسے زندہ رکھنے کے لیے قربانی دینی پڑتی ہے۔ یہی قربانیاں قوموں کو مضبوط بناتی ہیں، تاریخ کو معنی دیتی ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے مثال بن جاتی ہیں۔

حوا جان کی زندگی مختصر ضرور تھی، مگر بے مقصد نہیں تھی۔ ان کا سفر چھوٹا سہی، مگر باوقار اور روشن تھا۔ کچھ لوگ برسوں جی کر بھی وہ مقام حاصل نہیں کر پاتے جو وہ چند لمحوں میں پا گئیں۔

ہم دونوں نے ایک ویڈیو بھی بنائی تھی۔ اس ویڈیو کے اختتام پر ھوا جان آہستہ آہستہ منظر سے غائب ہو جاتی ہیں۔ آج جب بھی وہ ویڈیو دیکھتی ہوں تو دل بے اختیار بھر آتا ہے۔ آنسو خودبخود بہنے لگتے ہیں۔ مجھے ذرا بھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ منظر ایک علامت بن جائے گا اور وہ واقعی میری زندگی سے یوں اچانک ہمیشہ کے لیے غائب ہو جائیں گی۔

اب جب میں اس ویڈیو کو دیکھتی ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے وہ جاتے جاتے بھی کوئی پیغام دے گئی ہوں یہ پیغام کہ راستے کبھی ختم نہیں ہوتے، لوگ ختم ہو جاتے ہیں۔

شہید کبھی مرتے نہیں، صرف آنکھوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ حوا جان بھی آج ہمارے درمیان جسمانی طور پر موجود نہیں، مگر ان کی سوچ، ان کا حوصلہ اور ان کی قربانی ہمیشہ زندہ رہے گی۔ وہ ہمارے دلوں میں ایک روشن چراغ کی طرح موجود ہیں۔

ان کی قربانی ہمیں بہتر انسان بننے کا حوصلہ دیتی رہے گی۔ ان کی یاد ہمیں مضبوط بناتی رہے گی۔ ان کا نام ہمیں یہ سبق یاد دلاتا رہے گا کہ وطن اور سچ کے لیے دی گئی قربانی کبھی ضائع نہیں جاتی۔

حوا جان ایک شخصیت نہیں رہیں ایک تاریخ بن گئیں۔

وہ ایک آواز نہیں رہیں ایک پیغام بن گئیں۔

وہ ایک زندگی نہیں رہیں ایک راستہ بن گئیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔