حراستی قتل کی سیاست – ٹی بی پی اداریہ

0

حراستی قتل کی سیاست

ٹی بی پی اداریہ

بلوچستان میں جب بھی آزادی کے لیے برسرپیکار مسلح ادارے پاکستانی فوج کو نقصانات سے دوچار کرتے ہیں، تو پاکستان کے سیکیورٹی ادارے حسبِ دستور پہلے سے جبری گمشدہ افراد کو مبینہ طور پر ماورائے عدالت قتل کرکے انہیں مسلح جھڑپ میں مارنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ بلوچ لبریشن آرمی کے آپریشن ہیروف میں عزیمت اٹھانے کے بعد بلوچستان اور سندھ پولیس نے کراچی، بارکھان، پنجگور اور کوئٹہ میں ستائیس (27) جبری گمشدہ افراد کو قتل کرکے انہیں مسلح مزاحمت کار قرار دیا، حالانکہ ان میں سے حمدان بلوچ کو پہلے ہی سندھ ہائی کورٹ میں پیش کیا جاچکا تھا اور جس دن انہیں قتل کیا گیا، اس دن عدالت میں ان کی پیشی تھی۔

بلوچستان میں دو دہائیوں سے بلوچ نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل کیا جا رہا ہے اور اب ریاست اجتماعی سزا کے طور پر ان کے لواحقین کو بھی جبر کا نشانہ بنا رہا ہے۔ حمدان بلوچ سندھ پولیس کی تحویل میں تھا اور دو بار انہیں سندھ ہائی کورٹ میں پیش کیا گیا۔ اس کے باوجود انہیں نہ صرف مسلح جھڑپ میں قتل کرنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے بلکہ ان کے لواحقین کو مسلسل ہراساں کرکے انہیں خاموش کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

پاکستان فوج اور اس ملک کے مقتدر اداروں کا بلوچ نوجوانوں کو منظم طریقے سے قتل کرنے کا عمل طویل عرصے سے جاری ہے۔ فروری کے مہینے ستائیس جبری گمشدہ افراد کا قتل، بلوچستان میں اس طرز کا پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ جبری گمشدہ افراد کو ماورائے عدالت قتل کرنے کا سلسلہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے مسلسل جاری ہے۔ بلوچستان میں میڈیا پر پابندی اور ریاستی سختیوں کے سبب صرف کچھ ہی واقعات دنیا کے سامنے آتے ہیں جبکہ اس وقت بلوچستان ایک سنگین انسانی بحران سے دوچار ہے۔

پاکستان کی مقتدر قوتیں سمجھ رہے ہیں کہ جبری گمشدگیوں، ریاستی جبر، اجتماعی سزا اور حراستی قتل سے وہ بلوچ انسرجنسی کا انسداد کر رہے ہیں، تاہم بلوچستان کے معروضی حقائق سے واضح ہے کہ یہ ریاستی پالیسیاں بلوچ اور پاکستان کے رشتے کو مزید کمزور کررہی ہیں۔ حمدان بلوچ کی ماں اور ریاستی جبر کے شکار ماؤں کا اجتماعی نوحہ بلوچستان میں ریاست کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہا ہے اور یہ سوچ بلوچ قوم کی اجتماعی یادداشت کا حصہ بن رہا ہے کہ پاکستان میں بلوچ قوم کی بقا ممکن نہیں ہے۔