بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پاکستانی فورسز کی کارروائیوں اور متعدد افراد کے جبری گمشدگی کے اطلاعات نہ سامنے آئے ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق 8 فروری 2026 کی شب ضلع حب چوکی کے علاقے گلشن امیر آباد میں چھاپہ مارا گیا جس کے دوران کئی افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔
اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ چھاپے کے دوران عبدالرب ولد جمعہ، محمد رحیم ولد جمعہ، عبدالرازق ولد جمعہ اور عبدالمالک ولد جمعہ کو اپنے ساتھ لے جایا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ چاروں آپس میں بھائی ہیں اور ان کا تعلق مشکے نوکجو سے ہے۔
خاندان کے مطابق عبدالرب کے بیٹے شاہ زیب، محمد رحیم کے بیٹے جہانگیر، عبدالرازق کے بیٹے نوروز اور شاہ میر کو بھی حراست میں لیا گیا۔ اس کے علاوہ داد شاہ ولد فضل کریم کو بھی ساتھ لے گئے ہیں۔
اہلِ خانہ نے الزام لگایا ہے کہ کارروائی کے دوران خواتین اور بچوں پر تشدد کیا گیا۔
متاثرہ خاندان کے مطابق فضل کریم، جو کہ سرکاری ملازم اور پولیس سے وابستہ بتائے جاتے ہیں، کو ضلع خضدار سے اغوا کیا گیا۔ ان کے بیٹے نواز کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے کہ وہ سرکاری ملازم ہیں اور انہیں بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
اسی طرح داد شاہ ولد فضل کریم کو حب چوکی سے لے جانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
ادھر ضلع نوشکی کے علاقے کلی جمالدینی اور گردونواح میں بھی پاکستانی فورسز کے بڑے پیمانے پر آپریشن کی اطلاعات ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق علاقے کو گھیرے میں لے کر گھر گھر تلاشی لی جا رہی ہے، جبکہ شہریوں کو زد و کوب کرنے اور موبائل فونز کی جانچ پڑتال کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔

















































