بلوچستان کے علاقے حب چوکی میں پاکستانی فورسز کی جانب سے علی الصبح کیے گئے چھاپوں کے دوران بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ کے والد اور چچا کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق 2 فروری کو صبح تقریباً ساڑھے تین بجے حب چوکی کے مختلف علاقوں میں متعدد گھروں پر چھاپے مارے گئے۔ اس دوران ریٹائرڈ ڈپٹی کمشنر محمد بخش ساجدی، ان کے بھائی نعیم ساجدی اور سابق چیف سوئی گیس بلوچستان کے انجینئر رفیق بلوچ کو حراست میں لے لیا گیا۔
محمد بخش ساجدی بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ کے والد ہیں، جبکہ نعیم ساجدی اور انجینئر رفیق بلوچ ان کے چچا بتائے جاتے ہیں۔
خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران کسی قسم کا قانونی وارنٹ پیش نہیں کیا گیا اور حراست میں لیے گئے افراد کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا، جس کے بعد سے ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
دوسری جانب کوئٹہ میں بھی علی الصبح پاکستانی فورسز نے ایک طالب علم عمر بلوچ ولد عبدالرؤف کو برما ہوٹل سے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
انسانی حقوق کے حلقوں نے جبری گمشدگیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حراست میں لیے گئے افراد کی فوری بازیابی اور قانونی کارروائی کو شفاف بنانے کا مطالبہ کیا ہے


















































