تشدد پسند معید یوسف کا عدم تشدد والا چہرہ
تحریر: للّا بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
یہ کوئی انوکھی بات نہیں کہ دنیا میں کہیں بھی جب قابض نے مقبوضہ زمین پر تشدد کیا ہے تو اسے جواز بخشنے کے لیے قابض کے سارے طبقات بشمول دانشور اسے جواز دینے میں پیش پیش رہے ہیں۔ یہ مانتے رہے ہیں کہ طاقت کا استعمال کا حق صرف ریاست کو ہے اور یہ کہ ریاست کا تشدد جائز و قانونی ہے۔ جبکہ دوسری طرف اسی قابض کی تشدد کو کاؤنٹر کرنے، ختم کرنے کی نیت سے مقبوضہ قوتوں نے جب طاقت کو بطور آلہ استعمال کیا ہے تو یہی طبقات اسے ناجائز، بلا جواز و دہشت گرد قرار دینے میں کبھی بھی نہیں ہچکچاتے رہے ہیں۔ بقول نواب خیر بخش کہ وہ مارے تو ٹارگٹ کلنگ لیکن ہم ماریں تو دہشت گردی۔ یہ کیسا متضاد بیانیہ ہے!
اس سے پہلے کہ میں بیکن ہاؤس یونیورسٹی لاہور کے وائس چانسلر و سابق پاکستانی قومی سلامتی مشیر معید یوسف کے ان دنوں پروجیکٹ عدم تشدد برائے مقبوضہ جات کو زیرِ بحث لاؤں، دنیا میں معید یوسف جیسے دانشور و قابض قوتوں کے دانشور کا تشدد بابت رائے و جواز کا ایک سرسری جائزہ لینے کی کوشش کروں گا۔
ہم لبرلزم کو تو جانتے ہی ہیں، ان کے عظیم فلاسفر کے بارے بھی علم کا فقدان نہیں، انہی صاحبان کے آزادی، انصاف، انسانی اقدار کے بارے گیان بھی محدود نہیں لیکن یہی دانشور جب بھی اپنے مقبوضہ جات کے بارے بولتے رہے ہیں تو تشدد، آزادی و انصاف کے بارے اپنے خیالات کو بھی متضاد بناتے رہے ہیں تاکہ ان کی کالونیل ہیجمنی علم و جواز سے برقرار رہے۔
مثلاً شخصی آزادی کے فلاسفر جارج اسٹارٹ مل ویسے تو غلامی کے برخلاف و انسانی آزادی کے امین رہے ہیں لیکن جب بات برطانیہ کی انڈین کالونی کی رہی ہے تو یہ صاحب برملا کہتے رہے ہیں کہ لبرٹی کے قوانین ان پر لاگو نہیں ہوتے جو بدتہذیب ہیں یعنی ہم برطانیہ جب تک ہندوستان کو تہذیب یافتہ نہیں بناتے تب تک ان کے لیے انسانی اقدار کا لغوی معنی بھی الٹ پلٹ رہے۔ اسٹارٹ مل نے برطانوی استعمار کے خلاف ہندوستانی عوام کی 1857 جہدِ آزادی و سامراج مخالف تشدد کو بھی بلا جواز قرار دیا تھا۔
الیکس ڈی توکویل فرانس میں لبرل ڈیموکریسی کے گیانوں میں پیش قدم نام ہیں لیکن جب الجیریا میں فرانس قابض ہو کر وہاں لوٹ مار، نسل کشی، تشدد کا بازار گرم رکھتا ہے تو یہی صاحب فرانسیسی تشدد کو جواز بکھشنے کے لیے ہر اول دستے میں مورچہ زن رہتے ہیں۔ اسی دوران فرانسیسی افواج کی بربریت، گھروں کی مسماری و ضبطی کو جائز جبکہ سامراج مخالف الجیریائی تشدد کو غیر آئینی و فرانس کی سلامتی کے خلاف قرار دیتے ہیں۔
جیولس فیری جمہوری اقدار کو لاگو کرنے و انسانی وقار کی تحفظ کے بارے لیکچر دیتے نہیں تھکتے تھے لیکن جب بات فرانس کی افریقہ و ایشیا میں انسانوں کو غلام رکھنے، ان کے شخصی، قومی و جمہوری اقدار پر حملے کی بات آتی تھی تو یہ صاحب فرانسیسی عوامل کو جواز دینے پیش پیش رہتے تھے۔ یہ جمہوری اقدار و برابری کے امین رہتے رہتے جب فرانس کی کالونیز کے بارے بولتے تو عوامی سطح پر یہ جواز برملا کہتے کہ مقتدر نسلوں کو کمزور نسلوں پر حکمرانی کا حق حاصل ہے۔
آرثر بلفور کا نام بھی انہی متضاد، موقع پرست و دوغلے دانشوراں کی فہرست میں حروفِ اول ہے۔ یہ صاحب آئرلینڈ و عراق میں برطانوی قبضہ گیریت کو دوام بخشنے میں کبھی بھی ہچکچاہٹ کا شکار نہیں رہے ہیں لیکن دوسری طرف سامراج مخالف تشدد کو لگام دینے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے رہے ہیں۔
البرٹ کامیو کو کون نہیں جانتا، ان کی پیدائش تو مقبوضہ الجیریا میں ہوئی ہے لیکن اسی الجیریا میں جب ایف ایل این جیسی انقلابی اداروں نے فرانسیسی قبضہ گیریت کے خلاف تشدد کیا ہے تو عظیم فکشن نویس اور انسانی مسائل کی ادبی مفکر بھی سامراج مخالف تشدد کو بلا جواز کرنے یہ تک کہہ گئے ہیں کہ میں انصاف کا داعی ضرور ہوں لیکن میں اپنی زمین کے معاملے میں انصاف کو اولیت ہرگز نہیں دیتا۔
چلیں یہ تصیح بھی کر لیتے ہیں کہ بیکن ہاؤس یونیورسٹی کے وائس چانسلر و عمران خان دور میں پاکستان کے قومی سلامتی مشیر نہ بلوچ ہیں اور نہ ہی بلوچستان سے ان کا مادری و شناخت کا تعلق ہے ان کے لیے بلوچستان جان اسٹارٹ مل، البرٹ کامیو و جیولس فیری کی طرح ایک مقبوضہ سرزمین ہے جس پر ان کی مادری زمین یا ریاست قبضہ گیر ہے اور یہ کہ معید یوسف، جان اسٹارٹ مل، البرٹ کامیو و جیولس فیری کی طرح یہ مماثلت ضرور رکھتے ہیں کہ وہ بلوچستان میں اپنی قابض شناخت و قائم و باجواز رہنے کے لیے دوغلا رہنے میں کوئی ہار محسوس نہیں کرتے۔
میں یہاں معید یوسف کو بحث میں مرکزی حیثیت نہیں دے رہا بلکہ میں یہ سمجھنے کی کوشش میں ہوں کہ معید یوسف جیسے قابض دانشوراں مقبوضہ زمین کے باشندوں کو عدم تشدد کا گیان دینے تربت و لسبیلہ یونیورسٹی میں جب لیکچر سیشن کا انعقاد و جامعات میں سیمسٹر ایکسچینج کا مدعا بیان کرتے ہیں تو ان کے پسِ پردہ مقاصد کیا ہیں۔
معید یوسف جیسے دانشوراں و ریاستی تھنک ٹینک سے وابستہ حضرات کے لیے سامراج مخالف تشدد کے داعی و مظلوموں کے فلاسفر فینن صاحب لکھتے ہیں کہ قبضہ گیریت کی بنیاد ہی تشدد ہے اور جب تک قابض کی تشدد کو اگر جوابی تشدد کا سامنا نہیں ہوتا تب تک قبضہ گیریت کی گرفت سے نکلنا ناممکن ہی ہے۔ فینن مزید تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ قابض کی دانشور طبقہ جب تک قابض قوت کی تشدد کو منہدم کرنے سے پہلے اگر امن کی بات کرے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ لوگ سامراج کی موجودہ شکل کو دوام بکھشنے کی در پے ہیں۔
فینن کی نقطہ نظر سے اگر فلسفہِ معید کی تشریح کی جائے تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ معید یوسف جیسے لوگ جب ریاست کے قومی سلامتی مشیر و ریاستی جامعات کے سربراہ بنتے ہیں تو کھلے عام بلوچ کی تشدد کو ناجائز، پراکسی مانتے اور ان کی مذمت کرتے اور ان کو کاؤنٹر کرنے کی نیت سے طلبہ کو بھاشن دیتے ہیں تاکہ بلوچ طلبہ تشدد کو عدم تشدد جیسے متضاد بیانیے کی بنیاد سے دیکھیں اور اسی دوران ریاست کو تشدد کا امین سمجھ کر ریاستی تشدد کو دوام بخشنے کی نیت سے اسے جائز سمجھ کر متضاد و دوغلا ہونے میں کبھی بھی عار محسوس نہیں کرتے لیکن معید یوسف یہ بھول جاتے ہیں کہ بلوچ کی موجودہ مزاحمت منطقی و شعوری گہرائیوں میں پوشیدہ ہو کر اتنی جہتوں میں تقسیم ہے جسے قابو کرنے میں ریاستی تشدد بھی ناکافی ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































