بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی ) نے فروری 2026 کے دوران بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں، جبری گمشدگیوں اور “جعلی مقابلوں” کی آڑ میں ہونے والے ماورائے عدالت قتل کے واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے۔
کمیٹی کے مطابق فروری کا مہینہ بلوچ عوام کے لیے خونریز ثابت ہوا ہے جہاں قانون کی بالادستی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ میڈیا پر عائد پابندیوں اور خوف و ہراس کے ماحول کی وجہ سے بہت سے کیسز رپورٹ نہیں ہو پاتے، تاہم اب تک 19 افراد کے ماورائے عدالت قتل کی تصدیق ہو چکی ہے جن میں کمسن بچے اور طالب علم بھی شامل ہیں۔
ان افسوسناک واقعات میں 3 سالہ دیدگ بلوچ کی ڈرون حملے میں ہلاکت، 12 سالہ شہزاد احمد کا قتل، اور میٹرک و ایف ایس سی کے طلبہ بشمول نواب عبداللہ، جنگیان بلوچ اور جنید احمد کی جبری گمشدگی کے بعد لاشیں ملنے کے واقعات نے علاقے میں شدید خوف پیدا کر دیا ہے۔
رپورٹ میں کراچی کے رہائشی 24 سالہ طالب علم حمدان بلوچ کے کیس کو بطور خاص اجاگر کیا گیا ہے، جنہیں دسمبر 2025 میں حراست میں لیا گیا اور انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ زیر سماعت ہونے کے باوجود 18 فروری 2026 کو ایک مبینہ جعلی مقابلے میں قتل کر دیا گیا۔ اسی طرح یاسر لہڑی، ملنگ بلوچ، کریم جان، جاسم جان، پزیر بلوچ، اصیل بلوچ، بابو عطا محمد، بالاچ خالد، فراز، مہناس بلوچ، کمال داد، محمد انور، محمد فرید اور محمد فرید بلوچ جیسے نام بھی ان مقتولین کی فہرست میں شامل ہیں جو یا تو ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوئے یا جبری گمشدگی کے بعد مردہ پائے گئے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ یہ اقدامات نہ صرف غیر قانونی اور غیر انسانی ہیں بلکہ بلوچ قوم کی سماجی اور اجتماعی زندگی پر براہ راست حملہ ہیں۔ کمیٹی نے عالمی برادری، اقوام متحدہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ سے اپیل کی ہے کہ وہ ان سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لیں۔
مطالبہ کیا گیا ہے کہ تمام ہلاکتوں کی فوری اور آزادانہ عدالتی تحقیقات کرائی جائیں، ملوث اہلکاروں کا کڑا احتساب کیا جائے، اور مقتولین کے شفاف پوسٹ مارٹم کے ذریعے حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔
بی وائی سی کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ فوری بند کیا جائے اور ہر شہری کو جینے کا بنیادی حق اور قانونی تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ برسوں سے جاری اس لاقانونیت کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔



















































