بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے جاری کی گئی سالانہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سال 2025 کے دوران بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران جبری گمشدگیوں کے مجموعی طور پر 1,223 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جبکہ ماورائے عدالت ہلاکتوں کے 188 کیسز سامنے آئے۔ جبری گمشدگیوں کے سب سے زیادہ واقعات ضلع کیچ میں 339 رپورٹ ہوئے، اس کے بعد آواران میں 144، گوادر میں 99، پنجگور میں 92 اور ڈیرہ بگٹی میں 91 کیسز درج کیے گئے۔
ماورائے عدالت قتل کے حوالے سے بھی ضلع کیچ سرفہرست رہا، جہاں 66 کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ آواران میں 41 اور پنجگور اور خضدار میں 15، 15 واقعات سامنے آئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جبری گمشدگیوں کا شکار ہونے والوں میں مختلف عمر اور سماجی طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق 18 سے 60 سال کے 411 بالغ افراد، 75 کم عمر بچے، 18 خواتین اور 2 بزرگ افراد جبری طور پر لاپتہ ہوئے، جبکہ 735 افراد کی عمر سے متعلق معلومات دستیاب نہیں ہو سکیں۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق بڑی تعداد میں نامعلوم عمروں کے کیسز اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ متاثرہ خاندانوں کو معلومات کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کوئٹہ، قلات، خضدار، مستونگ اور بارکھان سمیت متعدد دیگر اضلاع میں بھی قابلِ ذکر تعداد میں ایسے واقعات رپورٹ ہوئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ چند مخصوص علاقوں تک محدود نہیں بلکہ پورے بلوچستان میں پھیلا ہوا ہے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں نے ان خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے حکام پر زور دیا ہے کہ وہ شفافیت، قانونی کارروائی اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ رپورٹ میں قومی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں سے بھی صورتحال کا نوٹس لینے کی اپیل کی گئی ہے۔

















































