بی ایل اے کا جدید فضائی اور ڈرونز وارفیئر یونٹ قہر” قومی تحریک میں ایک نئی جہت ۔ زرکوہی بلوچ

10

بی ایل اے کا جدید فضائی اور ڈرونز وارفیئر یونٹ قہر” قومی تحریک میں ایک نئی جہت 

تحریر: زرکوہی بلوچ 

دی بلوچستان پوسٹ

بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی سے لیس ڈرونز کا استعمال بلوچ قومی تحریک کے لیے ایک نئی جہت ہے۔ اس اقدام نے نہ صرف دشمن کے خلاف جنگی صلاحیتوں کو بڑھایا ہے بلکہ بلوچ قوم کی آزادی کی جدوجہد کو بھی ایک نئی جہت دی ہے۔

اگر ہم غور کریں اس وقت اکیسویں صدی میں جنگ اور تنازعات کی نوعیت میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ روایتی زمینی اور فضائی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ بغیر پائلٹ کے فضائی نظام (ڈرونز) نے عسکری حکمتِ عملی میں اہم مقام حاصل کر لیا ہے۔ ڈرون ٹیکنالوجی نے نہ صرف نگرانی اور انٹیلیجنس کے طریقۂ کار کو بدلا ہے بلکہ محدود وسائل رکھنے والے گروہوں اور ریاستوں دونوں کے لیے نئے امکانات اور چیلنجز پیدا کیے ہیں۔

ڈرون حملے عموماً دور سے کنٹرول کیے جاتے ہیں، جس کے باعث حملہ آور فریق کو نسبتاً کم خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مخالف فریق کی نقل و حرکت، سپلائی لائنز، اور دفاعی حکمتِ عملی پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ڈرون ٹیکنالوجی نے “جنگی توازن” کے تصور کو زیادہ متحرک اور غیر متوقع بنا دیا ہے، کیونکہ کم لاگت کے ساتھ زیادہ اثر پیدا کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔

دوسری جانب ڈرونز کی مسلسل موجودگی اور نگرانی زمینی افواج کے حوصلے اور عملی رفتار پر اس قدر اثر انداز ہوتی ہے کہ نفسیاتی دباؤ، غیر یقینی صورتحال، اور فوری ردعمل کی ضرورت میدانِ جنگ کے ماحول کو پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید عسکری نظریات میں فضائی نگرانی اور زمینی یونٹس کے درمیان ہم آہنگی کو کلیدی اہمیت دی جاتی ہے۔

ڈرونز صرف حملوں تک محدود نہیں بلکہ انٹیلیجنس، نگرانی، اور مواصلاتی نیٹ ورکس کے ساتھ مربوط نظام کا حصہ بن چکے ہیں۔ حقیقی وقت میں معلومات کی فراہمی، اہداف کی نشاندہی، اور مختلف یونٹس کے درمیان رابطہ جدید جنگی ڈھانچے کا بنیادی جزوی بن چکی ہے ۔

بی ایل اے کی جانب سے ڈرونز کا استعمال اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنی جنگی صلاحیتوں کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بڑھا رہی ہے۔ ڈرونز نہ صرف دشمن کے خلاف کارروائیوں میں استعمال ہو رہے ہیں بلکہ انٹیلیجنس، مواصلاتی نیٹ ورک، اور زمینی یونٹس کی مدد و ہم آہنگی میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

بی ایل اے کی جانب حالیہ دنوں آپریشن ھیروف دوم کے دوران ڈرونز کے ذریعے کی جانے والی کارروائیوں نے دشمن کے حوصلے پست کیئے ہیں اور انکو نفسیاتی دباؤ میں ڈالا ہے مزیذ نقل و حرکت کو بھی محدود کیا ہے۔ کیونکہ بی ایل اے نے آپریشن ہیروف دوم میں دشمن کے اہم مراکز اور فوجی چھاؤنیوں پر کئی حملے کیئے ہیں، جس سے دشمن کو بھاری نقصان پہنچا ہے اس کا مثال گوادر پورٹ ہے۔

بی ایل اے کی جانب سے ڈرونز کا استعمال بلوچ قومی تحریک کے لیے ایک نئی امید ہے۔ اس اقدام کا واضح مقصد یہی ہے کہ بی ایل اے بلوچ قومی جنگ ء آزادی کی جدوجہد میں مزید شدت لائی گئی اور دشمن کے خلاف اپنی کارروائیوں کو مزید تیز کرے گی۔

بی ایل اے کی جانب سے ڈرونز کا استعمال اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنی حکمت عملی کو جدید ٹیکنالوجی کے مطابق بنا رہی ہے۔ ڈرونز کا استعمال نہ صرف دشمن کے خلاف کارروائیوں میں ہو رہا ہے بلکہ یہ بھی واضح ہے کہ بی ایل اے اپنی جنگی صلاحیتوں کو مزید بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔