بلوچ لبریشن آرمی کی آپریشن ھیروف کے تحت حملوں کا سلسلہ مختلف علاقوں میں دوسرے روز جاری ہے۔
بلوچ لبریشن آرمی نے اپنے آفیشل چینل ہکل پر گوادر میں پاکستانی فورسز کے خلاف حملوں میں شامل خاتون فدائین رکن کی شناخت اور جھڑپوں کے دؤران کی ویڈیو جاری کردی ہے۔
بی ایل اے نے خاتون فدائین کی شناخت حوا بلوچ عرف دروشم کے نام سے کی ہے تاہم انکے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کئے ہیں۔
بلوچ لبریشن آرمی کی ہفتے کے صبح شروع ہونے والے مربوط حملوں کا سلسلہ آج بھی گوادر نوشکی سمیت دیگر علاقوں میں جاری ہیں۔
دیگر ذرائع نے حوا بلوچ کی شناخت ایک لکھاری کے طور پر کی ہے اور بتایا ہے کہ حواء بلوچ کے والد بھی بلوچ مسلح تحریک سے منسلک رہے ہیں اور پاکستانی فورسز کے ساتھ لڑتے ہوئے جانبحق ہوئے۔
تنظیم نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئٹہ و دیگر علاقوں میں بھی انکے سرمچار اپنے پوزیشن سمبھالے ہوئے ہیں اور جھڑپوں میں 150 سے زائد پاکستانی فوجی، پولیس و دیگر اداروں کے اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔
ویڈیو پیغام میں خاتون رکن بلوچ خواتین کو بلوچستان میں جاری مسلح جہدو جہد میں شامل ہونے کی تلقین کرتا ہے، جبکہ خاتون رکن کو جھڑپیں دیتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے۔
اپنے پیغام میں حوا بلوچ کہتی ہے کہ پاکستانی ریاست نے بلوچ مردوں کے ساتھ ساتھ بلوچ خواتین پر بھی ظلم ڈھائے ہیں اب وقت ہے کہ بلوچ خواتین اُٹھ کھڑے ہوکر اپنے اوپر ہونے والے مظالم کا بدلہ لیں اور ریاست کو پیغام دیں کے بلوچ خواتین شعوری اور عملی طور پر کمزور نہیں۔
















































