بی ایل اے والوں کے مشکور ہیں، انہوں نے نہ گولی ماری نہ اسلحہ لیا۔ سابق وزیر داخلہ بلوچستان

3

بلوچستان کے سابق وزیر داخلہ اور موجودہ رکنِ اسمبلی میر ظفر اللہ زہری نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ریاستی رٹ انتہائی کمزور ہوچکی ہے اور روزانہ کی بنیاد پر صوبے کی شاہراہیں مسلح افراد کے کنٹرول میں رہتی ہیں۔

کوئٹہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ایک بار پھر دعویٰ دہرایا کہ بلوچستان میں سڑکوں پر بلوچ آزادی پسند باقاعدگی سے ناکہ بندی کرتے ہیں، بلوچ لبریشن آرمی کے آپریشن ہیروف کے حالیہ حملوں سے متعلق سوال پر انہوں نے بتایا کہ 31 جنوری کو انہیں بھی مسلح افراد نے ناکہ بندی کے دوران روک لیا تھا۔

ایک صحافی کے سوال کے جواب میں ظفر اللہ زہری نے کہا میں مسلح افراد کا مشکور ہوں، انہوں نے میری عزت کی، نہ مجھے نقصان پہنچایا اور نہ ہمارا اسلحہ لیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سرفراز بگٹی جو چاہیں دعویٰ کریں، لیکن ہمیں تو ہر روز شاہراہوں پر مسلح افراد روکتے ہیں۔

یاد رہے کہ جعفر ایکسپریس حملوں کے بعد بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام کے رکنِ اسمبلی میر ظفر زہری نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ بلوچستان میں سرفراز بگٹی کی نہیں بلکہ بلوچ لبریشن آرمی کے سربراہ بشیر زیب بلوچ اور بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ڈاکٹر اللہ نذر کی رٹ قائم ہے۔

ان کے مطابق ان کے لوگ راتوں کو گشت کرتے ہیں، سڑکوں پر ناکہ بندی ہے، لوگ فورسز سے زیادہ پہاڑ والوں کو اپنا خیرخواہ سمجھتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ بلوچ خواتین اپنے زیورات بطور کمک بی ایل اے کے لوگوں کو دے رہی ہیں، حکومت انہیں طاقت سے نہیں روک سکتی اگر طاقت اور نسل کشی کے ذریعے لوگوں کو مارا جائے گا تو مائیں اور بچے دوبارہ جنم لے لیں گے۔

گزشتہ دنوں 31 جنوری کو بھی خضدار کے قریب ان کے قافلے کو روکا گیا تھا، تاہم مسلح افراد نے انہیں بغیر کسی نقصان کے جانے دیا۔

بلوچستان اسمبلی کے متعدد دیگر وزراء بھی حکومتی دعوؤں کے برخلاف بارہا اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ بلوچستان میں ریاستی رٹ نہ ہونے کے برابر ہے اور وہ اپنے ہی آبائی حلقوں میں محفوظ طریقے سے واپس جانے سے قاصر ہیں۔