بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے اپنے جاری کردہ بیان میں آپریشن “ہیروف فیز 2” میں حصہ لینے والے مزید چھ سرمچاروں کی شناخت ظاہر کردی ہے۔ تنظیم کے مطابق یہ مستونگ، کوئٹہ اور نوشکی میں ہونے والے حملے میں شامل تھے۔
بی ایل اے کے بیان کے مطابق ایک کی شناخت صابری بنگلزئی عرف شیر زمان سے ہوا ہے۔ ان کا تعلق کوئٹہ کے علاقے کلی سردے سے بتایا گیا ہے اور ان کی عمر 29 برس تھی۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ 2024 میں بی ایل اے میں شامل ہوئے اور اسی سال مجید بریگیڈ کا حصہ بنے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مستونگ کیمپ حملے میں وہ بطور آپریشن کمانڈر ذمہ داریاں سرانجام دے رہے تھے۔
دوسرے کی شناخت عاقب بنگلزئی عرف لالا طیب کے نام سے کی گئی ہے۔ بی ایل اے کے مطابق ان کا تعلق کوئٹہ کے علاقے سمل آباد سے تھا اور ان کی عمر 24 برس تھی۔ تنظیم کے مطابق وہ 2025 میں بی ایل اے اور بعد ازاں مجید بریگیڈ میں شامل ہوئے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مستونگ حملے کے دوران وہ سیکنڈ آپریشن کمانڈر کے طور پر سرگرم رہے۔
تیسرے کی شناخت نعمت اللہ گرگناڑی عرف جاوید بتایا گیا ہے، جن کا تعلق مستونگ کے علاقے کلی پدّا سے تھا۔ تنظیم کے مطابق وہ بھی 2025 میں بی ایل اے اور مجید بریگیڈ میں شامل ہوئے۔ بی ایل اے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ آپریشن ہیروف فیز ٹو کے دوران مستونگ کے محاذ پر موجود تھے اور کئی گھنٹوں تک لڑائی میں شامل رہے۔
بی ایل اے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ امام اخلاق بزنجو عرف ہونک بلوچ ان افراد میں شامل تھے جنہوں نے مارچ 2024 میں تنظیم میں شمولیت اختیار کی جبکہ 4 ستمبر 2024 کو مجید بریگیڈ کا حصہ بنے۔ تنظیم کے مطابق ان کا تعلق آواران کے علاقے جھاؤ سے تھا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ آپریشن ہیروف کے دوران کوئٹہ میں ریلوے اسٹیشن کے قریب پاکستانی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں مارے گئے۔
اسی طرح بی ایل اے نے ایک اور شخص کی شناخت قدرت اللہ کرد عرف مجید بلوچ کے نام سے ظاہر کی ہے۔ تنظیم کے مطابق ان کا تعلق مستونگ کے علاقے مَرو اسپلنجی سے تھا اور وہ 2024 میں بی ایل اے جبکہ 2025 میں مجید بریگیڈ میں شامل ہوئے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ کوئٹہ ریڈ زون میں ہونے والی کارروائی میں شریک تھے۔
تنظیم کے مطابق ایک اور فرد محسن علی عرف چراغ کا تعلق پنجگور کے علاقے نگور سے تھا۔ بی ایل اے کا کہنا ہے کہ وہ 2023 سے تنظیم سے وابستہ تھے اور 2024 میں مجید بریگیڈ میں شامل ہوئے۔ بیان کے مطابق انہوں نے آپریشن ہیروف کے دونوں مراحل میں حصہ لیا اور نوشکی میں ہونے والی کارروائی کے دوران مارے گئے۔
















































