بلوچ لبریشن آرمی کے میڈیا ونگ نے آپریشن ’ہیروف فیز ٹو‘ میں شامل دو مزید ارکان کی تصاویر اور تفصیلات شائع کر دی ہیں۔
میڈیا ونگ کے مطابق فدائی دل جان بلوچ، کوڈ نام: امیر آجو، ولد دل مراد بلوچ، سنِ پیدائش: 2005
سردشت کلانچ، تحصیل پسنی کے رہائشی نے یکم نومبر 2023 کو بلوچ لبریشن آرمی میں شمولیت اختیار کی اور فروری 2024 میں مجید بریگیڈ کا حصہ بنے۔ وہ پسنی محاذ پر لڑتے ہوئے شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے۔
ہکل کے مطابق جو لوگ ان کے شانہ بشانہ رہے، وہ انہیں دباؤ میں بھی پُرسکون رہنے اور مقصد کی واضح سمجھ رکھنے والے ایک نوجوان سرمچار کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ انہوں نے بغیر کسی نمود و نمائش کے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں اور کٹھن ترین لمحات میں بھی ثابت قدم رہے۔ پسنی محاذ پر ان کی شہادت ایک ایسے سفر کا اختتام بنی جو شعوری انتخاب، عزم اور وقار کے ساتھ طے کیا گیا تھا۔
ہکل میڈیا نے دوسرے رکن کی شناحت شبیر بلوچ، کوڈ نام: کیّا بلوچ، ولد دین محمد عمر تقریباً 32 برس
بنیادی تعلق ڈنڈو کلانچ سے، 2016 میں پسنی منتقل ہوئے اور تحریک کا حصہ بننے سے قبل فدائی شبیر بلوچ پیشے کے اعتبار سے ماہیگیر تھے اور سمندر و ساحلی زندگی سے گہرا تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے 2019 میں تحریک میں شمولیت اختیار کی اور جولائی 2024 میں مجید بریگیڈ کا حصہ بنے۔ وہ ایک قابل، منضبط اور تجربہ کار جنگجو کے طور پر جانے جاتے تھے، جنہوں نے اپنی خداداد صلاحیتوں، جنگی تجربے اور ذاتی عزم کی بنیاد پر تحریک کے صفوں میں کمانڈر کا مقام حاصل کیا۔
تنظیم کے مطابق آپریشن ھیروف کے دوران فدائی شبیر بلوچ نے پسنی محاذ پر آپریشنل کمانڈر کی حیثیت سے ذمہ داریاں نبھائیں۔ ان کی قیادت جرات، فہمِ میدان اور فیصلہ کن بصیرت سے عبارت تھی۔ ایک ماہیگیر سے فرنٹ لائن کمانڈر تک کا ان کا سفر اس وابستگی، مہارت اور ذمہ داری کے احساس کی علامت ہے جو انہوں نے آخری لمحے تک نبھایا۔

















































