بلوچ لبریشن آرمی کے میڈیا ونگ ’ہکل‘ نے آپریشن ’ہیروف فیز ٹو‘ میں شامل پانچ مزید ارکان کی تصاویر اور تفصیلات شائع کر دی ہیں۔
میڈیا ونگ کے مطابق فدائی ابوبکر بلوچ عرف دُرا، ولد: اسماعیل بلوچ، سکنہ: سند ءِ سر، عیسئی، پنجگور، اُن نوجوانوں میں سے تھے جنہوں نے اپنی زندگی کے انتخاب کو محض ایک جذباتی فیصلہ نہیں بلکہ ایک شعوری سمت کے طور پر اختیار کیا۔ سافٹ ویئر انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے والا یہ نوجوان جدید ٹیکنالوجی، تنظیمی ڈھانچے اور مزاحمتی حکمت عملی کے باہمی تعلق کو سمجھتا تھا۔ مارچ 2022 میں بی ایل اے سے وابستگی کے بعد انہوں نے خود کو نہایت منظم انداز میں تنظیمی کاموں کے لیے وقف کیا۔ وہ صرف عسکری تربیت تک محدود نہ رہے بلکہ بی ایل اے کے میڈیا ونگ ’ہکل‘ کا بھی حصہ بنے، جہاں انہوں نے تحریر، ترسیل اور بیانیہ سازی کے عمل میں خدمات انجام دیں۔
نومبر 2023 میں پہاڑی محاذ پر منتقل ہونے کے بعد دُرا نے بولان کے سخت اور طویل معرکوں میں حصہ لیا۔ آپریشن درۂ بولان فیز ون اور آپریشن ہیروف ون میں ان کی شرکت اور بعد ازاں ستمبر 2024 میں مجید بریگیڈ میں شمولیت اور جعفر ایکسپریس ہائی جیکنگ میں فرنٹ لائن پر ان کی موجودگی اس تسلسل کا حصہ تھی۔ آپریشن ہیروف دوم کے دوران دالبندین کیمپ پر جھڑپ میں انہوں نے صفِ اوّل میں رہ کر لڑائی کی اور شہادت پا گئے۔
ہکل میڈیا کے مطابق فدائی سراوان رئیسانی عرف سارگ، ولد: عبدالنبیس، سکنہ: ہدہ، کوئٹہ، اُن نوجوانوں میں سے تھے جو بھیڑ میں الگ دکھائی نہیں دیتے، مگر وقت آنے پر خود کو الگ ثابت کرتے ہیں۔ اگست 2025 میں بی ایل اے سے وابستگی اختیار کرنے کے بعد انہوں نے مجید بریگیڈ میں فوری شمولیت اختیار کی۔
ہدہ، کوئٹہ کی گلیوں سے نکل کر ناگاہو کے محاذ تک پہنچنے والا یہ نوجوان عملی ذمہ داریوں میں جلد شامل ہوگیا۔ دالبندین کیمپ پر جھڑپ کے دوران جب صورتحال پیچیدہ ہو رہی تھی، سارنگ نے خود کو محفوظ دائرے میں رکھنے کی بجائے آگے کی صف میں رہ کر لڑائی کی اور شہادت پا گئی۔
فدائی فیضان شاہوانی عرف ریحان، ولد: عطاء اللہ شاہوانی، سکنہ: کلی غلام خان، سریاب، کوئٹہ، اُن نوجوانوں میں سے تھے جن کی شناخت لفاظیت سے نہیں بلکہ عمل سے بنتی ہے۔ 2024 میں بی ایل اے سے وابستگی کے بعد انہوں نے مختصر مدت میں مجید بریگیڈ میں شمولیت اختیار کی اور نوشکی کے محاذ پر دشمن کے اہم مرکز پر بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے حملہ کیا، جس سے دشمن کے مرکز کو شدید نقصان پہنچا۔ آپریشن ہیروف دوم کے دوران شہادت پا کر انہوں نے مزاحمت میں نسل در نسل تسلسل قائم رکھنے کا پیغام دیا۔ وہ فتح اسکواڈ کے شہید سنگت ہیراس بادینی عرف نودان کے ماموں زاد بھی تھے۔
فدائی عدنان ارمان عرف چنگیز، ولد: عبدالغفور، سکنہ: شمبے اسماعیل وارڈ، گوادر، عمر: 31 سال، گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے تک بلوچ مسلح جدوجہد سے وابستہ رہے۔ 2013 میں باقاعدہ مسلح جدوجہد کا آغاز کرنے والے عدنان ارمان مختلف محاذوں پر سرگرم رہے۔ 2024 میں بی ایل اے میں شمولیت کے بعد انہوں نے مجید بریگیڈ کے لیے خدمات پیش کیں۔ آپریشن ہیروف فیز II میں گوادر کے محاذ پر دشمن کے خلاف طویل اور مشکل لڑائی میں حصہ لیا اور اپنی جان کا نذرانہ دے کر بلوچ آزادی تحریک کی تاریخ میں امر ہو گئے۔
فدائی یحییٰ لال عرف لاشاری، ولد: لال بخش، سکنہ: پروم کلیری، پنجگور، 23 برس، مارچ 2023 میں بی ایل اے سے وابستگی اختیار کرنے کے بعد مجید بریگیڈ میں شامل ہو گئے۔ یحییٰ لال نہ صرف ایک سپاہی بلکہ سوچ رکھنے والا نوجوان تھا، جس نے قلم اور عمل دونوں کے ذریعے اپنی وابستگی کا اظہار کیا۔ گوادر کے محاذ پر آپریشن ہیروف کے دوران وہ صفِ اوّل میں رہ کر اپنی جنگی حکمت عملی اور بہادری سے قابض فوج کو پسپائی پر مجبور کیا اور شہادت پا گئے۔



















































