بلوچ لبریشن آرمی کے میڈیا ونگ ہکل نے آپریشن ’ہیروف فیز ٹو‘ میں شامل دو مزید ارکان اور فوج سے ضبط کیے گئے اسلحے کی تصاویر اور تفصیلات شائع کر دی ہیں۔
میڈیا ونگ کے مطابق، فدائی ساکم بلوچ ولد: شمیم احمد سنِ پیدائش: 2004 سکنہ: آپسر، تربت ان کا تعلق ایک ایسے خاندان سے تھا جس نے پہلے ہی جدوجہد کی بھاری قیمت ادا کی تھی۔ ان کے خاندان کے دو افراد، شہید فدائی کریم اور شہید مسلم گرو، اس سے قبل جان کی قربانی دے چکے تھے۔ اس پس منظر میں ساکم بلوچ کا راستہ کسی اچانک فیصلے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مسلسل فکری اور جذباتی سفر کی پیداوار تھا۔
ہکل کے مطابق، تنظیم سے وابستگی سے قبل وہ ایک عام زندگی گزار رہے تھے اور بطور ڈرائیور کام کرتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک شاعر بھی تھے، جو الفاظ کے ذریعے اپنے احساسات، مشاہدات اور اندرونی کشمکش کا اظہار کرتے تھے۔ ان کی شاعری میں زندگی کی سختی، امید اور سوالات کی بازگشت سنائی دیتی تھی۔
آپریشن ہیروف کے دوران تربت محاذ پر ان کی زندگی کا سفر اختتام کو پہنچا۔ ان کی شہادت ایک ایسے نوجوان کی یاد چھوڑ گئی جو اپنے حالات، خاندانی تاریخ اور ذاتی حساسیت کے ساتھ جیتا رہا۔ فدائی ساکم بلوچ کی شناخت صرف ایک نام یا ایک لمحے تک محدود نہیں بلکہ ایک ایسے انسان کے طور پر یاد رکھی جائے گی جس کے اندر لفظ بھی تھے، فیصلہ بھی تھا، احساس بھی تھا اور ذمہ داری کا شعور بھی موجود تھا۔
جبکہ فدائی وسیم عرف کریم ولد: محمد حیات عمر: 21 سال سکنہ: ناصر آباد، تربت، وسیم نے 2024 میں تنظیم میں شمولیت اختیار کی اور 2025 میں مجید بریگیڈ کے حصے بنے۔
ہکل میڈیا کے مطابق، فدائی وسیم کا زندگی کا سفر واضح فیصلوں اور دباؤ میں ثابت قدم رہنے سے پہچانا جاتا ہے۔ کم عمری کے باوجود انہوں نے ہر ذمہ داری سنجیدگی اور وقار کے ساتھ اٹھائی، اور آپریشن ہیروف 2 کے دوران گوادر محاذ پر پوری استقامت کے ساتھ موجود رہے۔ ان کی شہادت ایک ایسے کردار کی یاد ہے جس کی بنیاد دکھاوے پر نہیں بلکہ پختہ یقین اور عملی جرات پر تھی۔
ہکل میڈیا کے مطابق، آپریشن ہیروف کے دوران، بلوچ لبریشن آرمی کے جنگجوؤں نے خاران میں قابض پاکستانی فوج کے اہلکاروں سے حرارتی دوربینیں (Thermal Scopes) اور نائٹ وژن (Night Vision) سمیت فوجی ساز و سامان قبضے میں لیے۔ اسی طرح ایک اور تصویر میں بھاری تعداد میں جدید اسلحہ دیکھا گیا۔
علاوہ ازیں، مستونگ میں قابض پاکستانی فوج اور اس کی ماتحت فورسز سے بھی ہتھیار قبضے میں لیے گئے۔
واضح رہے کہ بلوچ لبریشن آرمی کی قیادت میں آپریشن ہیروف دوئم چھ دن تک جاری رہا۔ تنظیم کے مطابق، اس آپریشن میں ان کے پچاس فدائی سمیت 93 سرمچار شہید ہوئے ہیں اور وہ ہکل میڈیا میں ان کی مکمل پروفائل کے ساتھ شناخت ظاہر کر رہے ہیں۔


















































