بی ایل اے آپریشن ہیرَوف: حکومت کا معدنیات اور سرحدی سیکیورٹی کے لیے خصوصی فورس قائم کرنے کا فیصلہ

20

سرمایہ کاروں کے خدشات دور کرنے کے لیے بلوچستان میں بڑے پیمانے پر سیکیورٹی اقدامات کیے جائیں گے۔

پاکستان نے معدنی وسائل سے مالا مال بلوچستان اور ایران و افغانستان کے ساتھ اس کی سرحدوں کی سیکیورٹی کے لیے انٹیلی جنس نیٹ ورک کو مضبوط بنانے اور ایک خصوصی فورس قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گذشتہ روز کینیڈا کی بڑی کمپنی بیرک مائننگ کارپوریشن نے اعلان کیا کہ وہ بلوچستان میں واقع اربوں ڈالر کے ریکوڈک تانبہ و سونے کے منصوبے کے تمام پہلوؤں کا فوری طور پر جامع جائزہ لینے کا ارادہ رکھتی ہے۔

بیرک گولڈ کا یہ فیصلہ گزشتہ ہفتے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بلوچ لبریشن آرمی “بی ایل اے” کے آپریشن ہیرَوف کے دوسرے مرحلے کے تحت کیے گئے منظم حملوں کے بعد سامنے آیا، جن میں پاکستانی حکام نے 36 شہری اور 22 سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔

حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ بعد ازاں کی جانے والی کارروائیوں میں 216 افراد کو مار دیا گیا ہے، تاہم بی ایل اے نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے 93 سرمچار جانبحق ہوئے، جن میں 50 فدائین شامل ہیں۔

بی ایل اے نے جمعہ کے روز آپریشن کی تکمیل کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس چھ روزہ آپریشن ہیرَوف میں 360 سے زائد پاکستانی فورسز، پولیس اور پرائیوٹ ملیشیا کے اہلکاروں کو ہلاک یا گرفتار کیا گیا۔

قدرتی معدنیات سے بھرپور بلوچستان، جو ایران اور افغانستان کی سرحدوں سے متصل ہے، کئی دہائیوں سے جاری شورش کا مرکز رہا ہے، جہاں بلوچ آزادی پسند پاکستانی فورسز، غیر ملکی سرمایہ کاروں کو نشانہ بناتی ہے اور سرکاری و فوجی افسران کو اغوا بھی کرتے ہیں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کے میڈیا و سیاسی امور کے معاون شاہد رند نے بتایا کہ بلوچستان میں مسلح حملوں کے حالیہ واقعات کے تناظر میں صوبائی حکومت سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر پورے سیکیورٹی نظام کو ازسرِنو ترتیب دے رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس میں معدنی علاقوں کے لیے ایک مخصوص فرنٹیئر کور کے یونٹ کی تشکیل اور ایران و افغانستان کی دونوں سرحدوں کی مضبوط حفاظت شامل ہے۔

بلوچستان حکومت انٹیلی جنس نیٹ ورک کو بھی مزید مضبوط کرے گی اور علاقے میں کام کرنے والی مائننگ کمپنیوں کے ساتھ قریبی تعاون کرے گی۔

شاہد رند کے مطابق بلوچستان حکومت غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے انتہائی سنجیدہ ہے اور ریکوڈک کو غیر ملکی سرمایہ کاری کا علمبردار سمجھتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت اس منصوبے کو برقرار رکھنے کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گی، حالیہ حملوں نے بظاہر بین الاقوامی سرمایہ کاروں، خصوصاً بیرک گولڈ، کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے جو بلوچستان میں دنیا کی سب سے بڑی تانبہ و سونے کی کانوں میں سے ایک تیار کررہی ہے۔

بیرک گولڈ کے ترجمان نے کہا کہ جیسا کہ کمپنی نے اپنی عوامی دستاویزات میں بیان کیا ہے، بیرک ریکوڈک منصوبے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے، جن میں سیکیورٹی انتظامات، ترقیاتی شیڈول اور سرمایہ جاتی بجٹ شامل ہیں۔

5 فروری کو جاری کردہ چوتھی سہ ماہی مالی نتائج کے بیان میں بیرک گولڈ نے کہا کہ ریکوڈک منصوبے میں چوتھی سہ ماہی کے دوران سائٹ پر کام جاری رہا، تاہم سیکیورٹی واقعات میں حالیہ اضافے کے پیش نظر انتظامیہ اس وقت منصوبے کے تمام پہلوؤں کا ازسرِنو جائزہ لے رہی ہے۔

ترجمان کے مطابق یہ جائزہ فوری طور پر شروع ہوگا اور مکمل ہونے پر اس کی تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔

ریکوڈک منصوبے میں کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ کا 50 فیصد حصہ ہے، جبکہ پاکستان کی تین وفاقی سرکاری کمپنیوں کے پاس مجموعی طور پر 25 فیصد اور بلوچستان حکومت کے پاس 25 فیصد حصہ ہے۔

اس منصوبے سے 2028 میں پیداوار شروع ہونے کی توقع ہے، اور اسے پاکستان کی معدنی برآمدات بڑھانے اور کم ترقی یافتہ مائننگ شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے کا مرکزی ستون تصور کیا جاتا ہے۔

بلوچستان میں بڑھتے ہوئے خطرات کے باوجود، پاکستانی کے پنجاب و دیگر حصوں میں اس منصوبے سے منسلک پروجیکٹس جاری ہیں، بیرک گولڈ جلد ہی بلوچستان کی بندرگاہی انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری شروع کرے گی، کیونکہ وہ برآمدات کی تیاری کررہی ہے۔

پاکستان انٹرنیشنل بلک ٹرمینل لمیٹڈ (PIBT) جو کراچی کے پورٹ قاسم میں واقع ملک کا پہلا ڈرٹی بلک ٹرمینل ہے، ریکوڈک کی پیداوار کی ترسیل کے لیے مخصوص سہولیات فراہم کرے گا۔

پی آئی بی ٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شریق عظیم صدیقی نے بتایا کہ بیرک گولڈ 150 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی تاکہ ایک شیڈ تعمیر کیا جا سکے اور دیگر مخصوص سہولیات کو اپ گریڈ کیا جا سکے، جو 2028 میں ریکوڈک کی پیداوار شروع ہونے کے بعد کنسنٹریٹ کی ترسیل کے لیے استعمال ہوں گی۔

ریکوڈک مائننگ کمپنی، جو بیرک گولڈ کی پاکستانی ذیلی کمپنی ہے، نے گزشتہ ہفتے پی آئی بی ٹی کے ساتھ ایک برآمدی معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت ابتدائی مرحلے میں 8 لاکھ ٹن تانبہ و سونے کا کنسنٹریٹ اس ٹرمینل کے ذریعے برآمد کیا جائے گا، جبکہ دوسرے مرحلے میں یہ مقدار دگنی ہو جائے گی۔

سال 2022 میں طویل قانونی تنازعات کے بعد بحال کیے گئے ریکوڈک منصوبے کو حکومت بلوچستان کے لیے ایک انقلابی سرمایہ کاری قرار دیتی ہے، جو پاکستان کا زیرانتظام سب سے بڑا مگر کم ترقی یافتہ خطہ ہے۔

تاہم مسلح گروہوں کی مسلسل سرگرمیوں اور سیکیورٹی فورسز، ریاستی اداروں اور انفراسٹرکچر پر بڑھتے ہوئے حملوں نے سرمایہ کاروں میں تشویش پیدا کردی ہے۔

حالیہ بلوچ آزادی پسند حملے جو پچھلے برسوں میں بلوچستان میں سب سے مہلک واقعات میں شمار ہوتے ہیں کے بعد بلوچستان بھر میں بڑے پیمانے پر سیکیورٹی آپریشنز جاری ہیں، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں اور سہولت کاروں کی تلاش جاری ہے۔

پی آئی بی ٹی کے سی ای او صدیقی نے کہا کہ بلوچستان میں مسلح گروہوں کے حملوں اور طاقت میں حالیہ اضافہ ان کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیکیورٹی چیلنجز ہمیشہ سے موجود رہے ہیں اور سرمایہ کار اس حقیقت کو سمجھتے ہیں، ہم اسے معمول کا حصہ سمجھ کر بہتری کی امید رکھتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر کارگو کی نقل و حرکت کے لیے سیکیورٹی نہ ہو تو اس سے ریکوڈک منصوبے کو نقصان پہنچے گا اور تمام فریق متاثر ہوں گے۔

دوسری جانب، حالیہ حملوں میں ملوث تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کی بڑھتی ہوئی قوت اور حملوں کے اثرات کے باعث چین سمیت دیگر غیر ملکی سرمایہ کار بھی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ چین نے اپنے سی پیک منسلک متعدد منصوبے روک دیے ہیں۔

مزید براں بی ایل اے نے حالیہ حملوں کے تناظر میں اپنے بیان میں کہا تھا کہ بلوچستان میں جاری آزادی کی تحریک کے دوران بلوچ عوام کی مرضی کے بغیر کی جانے والی سرمایہ کاری کو استحصال سمجھا جائے گا اور اس پر حملے کیے جائیں گے۔