بیبرگ بلوچ: ایک منفرد اور دوہری مزاحمت – شاہموز بلوچ

9

بیبرگ بلوچ: ایک منفرد اور دوہری مزاحمت

تحریر: شاہموز بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

‎بیبرگ بلوچ کی زندگی اور ان کا سیاسی کیریئر انسانی عزم کی ایک ایسی بے مثال داستان ہے جو تاریخ کے دیگر عظیم انقلابیوں سے کہیں زیادہ کٹھن اور منفرد پس منظر رکھتی ہے۔ ان کی جدوجہد کا آغاز بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں ایک متحرک طالب علم رہنما کے طور پر ہوا، جہاں وہ ‘بی ایس او آزاد’ کے پلیٹ فارم سے اپنے پیروں پر چل کر بلوچ نوجوانوں میں سیاسی شعور بیدار کرتے تھے۔ لیکن بیبرگ بلوچ کا مقدمہ اس لیے مختلف ہے کہ انہوں نے جبر کے دو مختلف ادوار کو اپنی ہڈیوں پر جھیلا ہے: ایک وہ دور جب وہ اپنے پیروں پر کھڑے تھے، اور دوسرا وہ دور جب وہ وہیل چیئر پر آئے۔ ان کی زندگی کا وہ خونی موڑ ۲ مارچ۲۰۱۰ کو آیا جب خضدار میں ان پر ایک دستی بم حملہ کیا گیا ۔ اس حملے نے ان کی ریڑھ کی ہڈی کو شدید متاثر کیا اور انہیں مستقل طور پر وہیل چیئر تک محدود کر دیا، مگر دشمن کا یہ وار ان کے حوصلوں کو مفلوج کرنے میں ناکام رہا۔

اگرچہ تاریخ میں مئے بلنگہرسٹ  جیسی بہادر خواتین کا ذکر ملتا ہے جنہوں نے برطانیہ میں خواتین کے ووٹ کے حق کے لیے اپنی معذوری کو ایک احتجاجی ہتھیار بنایا، یا امریکہ کے بریڈ لومیکس جنہوں نے بلیک پینتھرز کے ساتھ مل کر معذوروں کے حقوق کی جنگ لڑی، لیکن بیبرگ بلوچ کا سفر ان سب سے جدا ہے کیونکہ انہیں ایک ایسے نظام کا سامنا ہے جہاں وہیل چیئر پر ہونے کے باوجود ان کی جان محفوظ نہیں۔

معذوری کے اس دور میں بیبرگ بلوچ نے ثابت کیا کہ حقیقی انقلاب جسمانی طاقت سے نہیں بلکہ فکری استقامت سے آتا ہے۔ انہوں نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مرکزی منتظم کے طور پر وہیل چیئر پر بیٹھ کر طویل مارچوں اور احتجاجی تحریکوں کی قیادت کی، جس کے نتیجے میں انہیں بارہا پولیس کے بہیمانہ تشدد اور لاٹھی چارج کا نشانہ بننا پڑا۔ ان کی انفرادیت یہ ہے کہ جہاں دنیا بھر میں معذور افراد کو کسی حد تک ہمدردی یا قانونی استثنیٰ حاصل ہوتا ہے، وہاں بیبرگ بلوچ کو کوئٹہ کی سڑکوں پر اسی وہیل چیئر سے گھسیٹا گیا اور ان کے خلاف انتقامی کاروائیاں جاری رکھی گئیں۔ ان کے سیاسی کیریئر کا سب سے تکلیف دہ مرحلہ ۲۰ مارچ ۲۰۲۵ کو پیش آیا، جب ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق انہیں ان کی معذوری اور بگڑتی ہوئی صحت کے باوجود جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا۔ بیبرگ بلوچ کی یہ داستان اس سچائی کی گواہی دیتی ہے کہ ایک نظریاتی انسان کو چاہے پیروں سے محروم کر دیا جائے، وہ اپنے پہیوں پر رقص کرتا ہوا انقلاب برپا کر سکتا ہے، اور ان کی یہ دوہری مزاحمت انہیں تاریخ کے تمام معذور انقلابیوں میں ایک ممتاز اور منفرد مقام عطا کرتی ہے۔

بیبرگ بلوچ کو ان کی طالب علمی کے دور میں ہی ان کی سیاسی سرگرمیوں اور بلوچ حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی پاداش میں جبری طور پر اٹھایا گیا۔ دورانِ حراست ان پر وہ وحشیانہ جسمانی اور ذہنی تشدد کیا گیا جس کا تصور بھی لرزہ براندام کر دیتا ہے۔ ان کی زندگی کا یہ وہ پہلا کٹھن دور تھا جب وہ اپنے پیروں پر کھڑے تھے اور ایک توانا جسم کے مالک تھے، مگر ان کی اس جسمانی توانائی کو توڑنے کے لیے تشدد کے وہ تمام حربے آزمائے گئے جو کسی بھی انسان کو جھکانے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ لیکن بیبرگ بلوچ کی انفرادیت یہ رہی کہ نہ تو وہ ان تاریک عقوبت خانوں میں ٹوٹے اور نہ ہی اس وحشیانہ تشدد نے ان کے قدموں کو لڑکھڑانے دیا۔

یہ ان کی زندگی کا وہ پہلا دور تھا جس نے ثابت کر دیا کہ ان کے خلاف جبر کا سلسلہ ان کی معذوری سے بہت پہلے شروع ہو چکا تھا۔ طالب علمی کے زمانے کی وہ جبری گمشدگی اور تشدد دراصل اس طویل جدوجہد کا دیباچہ تھا جسے انہوں نے بعد میں وہیل چیئر پر بھی جاری رکھا۔ بیبرگ بلوچ کا یہ دوہرا سفر، پہلے ایک طالب علم کے طور پر اغوا اور تشدد سہنا اور پھر معذوری کے عالم میں دوبارہ اسی جبر کا سامنا کرنا، انہیں دنیا کے دیگر مزاحمتی رہنماؤں سے ممتاز کرتا ہے، کیونکہ انہوں نے اپنی ہڈیوں پر ظلم کے دو مختلف نقش جھیلے ہیں، مگر ان کی آواز آج بھی پہلے سے زیادہ بلند اور توانا ہے۔

بیبرگ بلوچ، مئے بلنگہرسٹ، اور بریڈ لومیکس کی کہانیاں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ انقلاب کے لیے طاقتور جسموں کی نہیں، بلکہ طاقتور عزم، مضبوط ارادوں اور بے لوث قربانیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان تینوں نے اپنی وہیل چیئرز کو محدودیت نہیں، بلکہ تبدیلی کا ذریعہ، مزاحمت کی علامت، اور امید کی روشنی بنایا۔ انہوں نے معاشرے کو یہ پیغام دیا کہ جسمانی معذوری کبھی بھی انسانی وقار، سیاسی شرکت یا سماجی تبدیلی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ آج، جب بیبرگ بلوچ قید میں ہیں، ان کی وہیل چیئر خالی ہے، لیکن ان کی آواز گونج رہی ہے۔

تاریخ ہمیں بار بار بتاتی ہے کہ ایسے کارکنوں کو، ایسے انقلابیوں کو، اور ایسے عزم کو خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ مئے بلنگہرسٹ کو جیل میں ڈالا گیا، ان پر تشدد کیا گیا، لیکن آخر کار برطانوی خواتین کو ووٹ کا حق مل گیا اور آج برطانیہ کی سیاست میں خواتین کی مضبوط موجودگی ہے۔ بریڈ لومیکس کی بیماری نے انہیں کمزور کیا، لیکن امریکہ میں معذوری کے قوانین مضبوط ہوئے اور آج معذور افراد کو تعلیم، روزگار اور سماجی زندگی میں برابری کے مواقع حاصل ہیں۔ اور ببرگ بلوچ کو گرفتار کیا گیا، ان پر تشدد کیا گیا، انہیں قید کیا گیا، لیکن آج بلوچستان کا مسئلہ، لاپتہ افراد کا المیہ، اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں عالمی سطح پر زیر بحث ہیں۔

یہ انقلاب پہیوں پر ہے، اور یہ رکنے والا نہیں ہے۔ یہ انقلاب ٹانگوں پر نہیں، بلکہ ارادوں پر چل رہا ہے۔ یہ انقلاب جسموں کی طاقت سے نہیں، بلکہ روحوں کی بلندی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ بیبرگ بلوچ، مئے بلنگہرسٹ، اور بریڈ لومیکس نے ثابت کر دیا کہ جب انسان اپنے حقوق، اپنی قوم، اور اپنی انسانیت کے لیے لڑنے کا فیصلہ کر لیتا ہے، تو کوئی دستی بم، کوئی تشدد، کوئی جیل، اور کوئی بیماری اس کے عزم کو توڑ نہیں سکتی۔ ان کی وہیل چیئرز ان کی کمزوری نہیں تھیں، بلکہ ان کی طاقت کی علامت تھیں، اور آج بھی یہ علامتیں دنیا بھر میں مظلوموں کے لیے امید کی کرن ہیں۔

بیبرگ بلوچ کی رہائی تک، اور بلوچستان میں انصاف کے قیام تک، یہ آوازیں گونجتی رہیں گی، یہ جدوجہد جاری رہے گی، اور یہ پہیوں پر انقلاب آگے بڑھتا رہے گا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔