بلوچ یکجہتی کمیٹی کی عدالتی بدعنوانی پر شدید تشویش، اعلیٰ عدلیہ سے مداخلت کا مطالبہ

15

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ تنظیم ہفتہ، 07 فروری کو انسدادِ دہشت گردی عدالت نمبر I میں ہونے والی جیل ٹرائل کی کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ عدالتی کارروائی کے دوران بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت کے خلاف واضح جانبداری اور تعصب کا مظاہرہ کیا گیا، جبکہ یہ کارروائی محض پہلے سے طے شدہ فیصلے کو قانونی جواز فراہم کرنے کی کوشش محسوس ہوئی، جس سے منصفانہ ٹرائل کے بنیادی اصول بری طرح مجروح ہوئے۔

سماعت کے دوران عدالت کا رویہ نہایت تشویشناک تھا۔ معزز جج نے بارہا وکلائے صفائی کو روکنے، تحقیر آمیز ریمارکس دینے اور ملزمان کے خلاف کھلے طور پر مخالفانہ رویہ اختیار کرنے کا مظاہرہ کیا۔ یہ طرزِ عمل انصاف کے فطری اصولوں اور آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 10-اے میں درج منصفانہ ٹرائل کی آئینی ضمانت کی صریح خلاف ورزی ہے۔

ان حالات کے پیشِ نظر بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت نے ٹرائل کورٹ کی غیر جانبداری پر مکمل اعتماد کھو دیا۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے باضابطہ طور پر عدالت میں شدید اعتراضات ریکارڈ کرائے اور مؤقف اختیار کیا کہ وہ مسلسل وکلائے صفائی کے ساتھ بدسلوکی اور ایسے عدالتی احکامات کا مشاہدہ کر رہی ہیں جو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی اور منصفانہ ٹرائل کے آئینی حق کے منافی ہیں۔ ان اقدامات کو سنگین غیر قانونی حرکات اور عدالتی بے ضابطگیاں قرار دیا گیا جو عدالت کے دائرہ اختیار سے تجاوز کے مترادف ہیں۔

جب ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے عدالتی جانبداری اور غیر منصفانہ رویے پر سوال اٹھایا تو معزز جج محمد علی مبین نے جارحانہ انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا:
“تمہاری اور تمہارے وکلاء کی بات کون سنے گا؟”
مزید یہ بھی کہا گیا:
“تمہاری آواز سننے والا کوئی نہیں۔”

اوپن کورٹ میں کسی عدالتی افسر کی جانب سے ایسے بیانات دینا عدالتی اخلاقیات، عدلیہ کی آزادی اور انصاف کی روح کے یکسر منافی ہے۔

یہ رویہ پوری عدالتی کارروائی کے دوران بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت کے ساتھ اپنائے گئے طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے۔ وکلائے صفائی نے مسلمہ قانونی اصولوں کی بنیاد پر مؤقف اختیار کیا کہ اگر کسی ملزم کا کسی جج پر اعتماد ختم ہو جائے اور جانبداری کے ٹھوس خدشات سامنے آئیں تو جج پر قانونی اور اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ معاملہ ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو بھیجے تاکہ کیس کو کسی دوسری بااختیار عدالت میں منتقل کیا جا سکے۔ تاہم انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج نے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے وکلائے صفائی کے دلائل کو سنجیدگی سے سننے سے بھی انکار کیا۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی واضح طور پر اعلان کرتی ہے کہ اسے انسدادِ دہشت گردی عدالت نمبر I پر منصفانہ ٹرائل کے حوالے سے کوئی اعتماد حاصل نہیں رہا۔ یہ مقدمہ محض بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ یہ قانون کی حکمرانی اور شہریوں کے بنیادی حقوق پر براہِ راست حملہ ہے۔

پس منظر کے طور پر واضح کیا جاتا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت کے خلاف قائم مقدمات ان کی پُرامن سیاسی اور انسانی حقوق کی سرگرمیوں کا نتیجہ ہیں، جن میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت اقدامات اور بلوچستان میں جاری طویل المدتی نظامی ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھانا شامل ہے۔ ان مسائل کو جمہوری اور قانونی طریقوں سے حل کرنے کے بجائے ریاستی ادارے اختلافی آوازوں کو دبانے کے لیے مجرمانہ مقدمات اور جابرانہ قانونی اقدامات کا سہارا لے رہے ہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی اعلیٰ عدلیہ سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس سنگین عدالتی ناانصافی کا فوری نوٹس لے اور آئینی ضمانتوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ اس کے ساتھ ساتھ، کمیٹی عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور آزاد مبصرین سے بھی اپیل کرتی ہے کہ وہ ان عدالتی کارروائیوں پر گہری نظر رکھیں اور پاکستان میں جاری بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیں۔