بلوچ جہد آزادی کی عوامی پزیرائی۔ ٹی بی پی رپورٹ
جنوری کی ایک خاموش صبح، جب فضا میں فجر کی اذان گونجنے ہی والی تھی، بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر سے لے کر کوئٹہ کے پہاڑی دامن تک سوئے ہوئے لوگوں کو زور دار دھماکوں کی آوازوں نے چونکا دیا۔ اندھیرا ابھی پوری طرح چھٹا بھی نہ تھا کہ مختلف علاقوں میں غیر معمولی سرگرمیوں کی خبریں پھیلنے لگیں۔ جیسے ہی سورج طلوع ہوا، لوگ گھروں سے نکلے تو شاہراہوں اور گلیوں میں مسلح افراد دکھائی دیے وہی جنہیں بلوچستان میں عام زبان میں “سرمچار” کہا جاتا ہے۔
بلوچی زبان میں “سرمچار” دو الفاظ کا مجموعہ ہے: “سر” اور “مچار”، یعنی وہ جو اپنا سر قربان کرنے کو تیار ہو۔ اس روز ان مسلح افراد نے کئی علاقوں میں حکومتی کنٹرول کو عملاً معطل کر دیا تھا۔ یہ مناظر بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے اعلان کردہ آپریشن “ہیروف 2” کا حصہ تھے۔
بی ایل اے کے ترجمان جیئند بلوچ نے اسی صبح چھ بج کر چودہ منٹ پر اپنے آفیشل چینل پر مختصر بیان میں اس آپریشن کی ذمہ داری قبول کی۔ “ہیروف” بلوچی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی “کالی آندھی” کے ہیں۔ بی ایل اے نے اپنے بڑے اور منظم عسکری آپریشن کو اسی نام سے منسوب کیا ہوا ہے۔
آپریشن ہیروف کا پہلا مرحلہ 26 اگست 2024 کو شروع کیا گیا تھا، جس میں بلوچستان کے کئی علاقوں میں منظم کارروائیاں کی گئیں۔ اسی سلسلے میں بیلہ کے مقام پر فرنٹیئر کور کے مرکزی کیمپ کو بی ایل اے کے مجید بریگیڈ کے فدائی یونٹ نے نشانہ بنایا۔ اس حملے کی شروعات بی ایل اے کی تیسری خاتون فدائی ماھل بلوچ نے بارود سے بھری گاڑی کیمپ سے ٹکرا کر کی۔
بی ایل اے کی فدائی کارروائیوں کا آغاز 31 دسمبر 2011 سے ہوا۔ اس کے بعد دالبندین، کراچی، گوادر، نوشکی، پنجگور، کوئٹہ، تربت اور بولان سمیت مختلف علاقوں میں متعدد انفرادی اور اجتماعی حملے کیے گئے۔ ان میں کمپلیکس حملے اور کار بم دھماکے بھی شامل رہیں۔
بی ایل اے اپنے بڑے عسکری آپریشنز کو مخصوص نام دیتی ہے۔ 2022 میں پنجگور اور نوشکی کے حملوں کو “آپریشن گنجل” جبکہ گوادر کے ساحلی علاقے میں حملوں کو “آپریشن زرپہازگ” کا نام دیا گیا۔ اسی طرح “آپریشن درہ بولان” کے تحت مچھ شہر پر عارضی کنٹرول اور جعفر ایکسپریس کی ہائی جیکنگ شامل ہیں۔ تاہم بی ایل اے کے مطابق “آپریشن ہیروف” ان کا اب تک کا سب سے بڑا اور فیصلہ کن آپریشن ہے۔
پاکستانی حکومت اور فوج کا مؤقف ہے کہ بلوچستان میں جاری تحریک بیرونی طاقتوں کی مداخلت اور پراکسی جنگ کا نتیجہ ہے، اور ان مسلح تنظیموں کو عوامی حمایت حاصل نہیں۔ لیکن زمینی حقائق اکثر اس بیانیے سے مختلف نظر آتے ہیں۔
آپریشن ہیروف کے دوران سوشل میڈیا پر ایسی متعدد ویڈیوز وائرل ہوئیں جن میں عام لوگ سرمچاروں کے ساتھ سیلفیاں لیتے، ان کے ساتھ کھڑے ہوتے اور انہیں خوش آمدید کہتے دکھائی دیئے۔ بعض مقامات پر مقامی لوگوں نے انہیں کھانا فراہم کیا، جبکہ کچھ ویڈیوز میں خواتین کو ان کے لیے دعائیں کرتے بھی دیکھا گیا۔ یہ مناظر اس تاثر کو چیلنج کرتے ہیں کہ بلوچ مسلح تنظیمیں عوام میں مکمل طور پر غیر مقبول ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ریاستی ادارے بلوچ مسلح تنظیموں کو “دہشت گرد” اور “بیرونی ایجنٹ” قرار دیتے ہیں تو پھر مقامی آبادی ان سے ہمدردی کیوں رکھتا ہے؟
اس سوال کا جواب تلاش کرنے پر چند بنیادی عوامل سامنے آتے ہیں۔
اول: بلوچ مسلح تنظیموں میں شامل افراد کی ایک بڑی تعداد مقامی آبادی سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ لوگ انہی شہروں اور قصبوں میں پلے بڑھے ہوتے ہیں۔ ان میں سے کئی تعلیم یافتہ، سماجی طور پر متحرک، شاعر، لکھاری یا اسپورٹس سے وابستہ نوجوان رہے ہیں۔ اس وجہ سے مقامی سطح پر ان کے ساتھ ایک سماجی اور جذباتی وابستگی پائی جاتی ہے۔
دوم: ان تنظیموں کی کارروائیوں کا بنیادی ہدف زیادہ تر پاکستانی فوجی تنصیبات یا وہ منصوبے ہوتے ہیں جنہیں بلوچ سماج استحصالی سمجھتا ہے۔ عام شہریوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کے واقعات نسبتاً کم رپورٹ ہوئے ہیں۔ بڑے حملوں میں بھی عوامی جانی نقصان کم سے کم رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ یہ لڑائی براہِ راست ریاستی اداروں کے خلاف ہے، نہ کہ عام لوگوں کے خلاف۔
سوم: گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بلوچستان میں سیاسی سرگرمیوں پر مسلسل قدغنیں لگائی گئیں۔ پرامن سیاسی تحریکوں کو طاقت کے ذریعے دبایا گیا، جس کے نتیجے میں لوگوں کے لیے سیاسی جدوجہد کی گنجائش محدود ہوتی چلی گئی۔ تو نوجوان اس راستے کی طرف مائل ہوتے گئے۔
چہارم: لاپتہ افراد، جعلی مقابلوں اور مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی جیسے واقعات نے ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے مزید بڑھا دیے ہیں۔ ان واقعات نے مقامی آبادی میں خوف اور غم و غصے کو جنم دیا، جس کا براہِ راست فائدہ بلوچ مسلح تنظیموں کو پہنچا۔
اس پوری صورتحال کو سمجھنے کے لیے ایک اہم تاریخی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بلوچ سماج کے ایک بڑے حصے کے نزدیک پاکستان میں شامل دیگر قوموں کے ساتھ ان کی سیاسی، سماجی اور ثقافتی سطح پر کبھی وہ گہری ہم آہنگی قائم نہیں ہو سکی جو کسی مشترکہ قومی شناخت کی بنیاد بنتی ہے۔ تاریخی طور پر بلوچ خود کو اس خطے میں ایک خود مختار اور الگ قومی اکائی کے طور پر دیکھتے آئے ہیں۔ اسی لیے ایک وسیع حلقہ یہ مؤقف رکھتا ہے کہ بلوچستان کی پاکستان میں شمولیت ایک رضاکارانہ سیاسی عمل کے بجائے جغرافیائی و عسکری دباؤ کا نتیجہ تھی۔
اسی تاریخی حساس کے باعث بلوچ قوم پرست حلقوں میں یہ تصور مضبوط رہا ہے کہ پاکستان کے ریاستی ڈھانچے کے اندر ان کی قومی شناخت، زبان اور ثقافت کو مستقل خطرات لاحق ہیں۔ شناخت کے تحفظ کا خوف آج بلوچ سیاست اور مزاحمتی بیانیے کا ایک بنیادی ستون سمجھا جاتا ہے۔
عسکری تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ دنیا کے کسی بھی خطے میں بغیر کسی نہ کسی درجے کی عوامی حمایت کے مسلح تحریکیں زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتیں۔ بلوچستان میں جاری تحریک کے اس فیز کو پچیس سال سے زائد عرصہ ہوچکا ہے، اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ جدوجہد شدت اور جدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔
ریاستی اداروں کی جانب سے اپنائی گئی سخت گیر پالیسیوں کا ایک نتیجہ یہ نکلا ہے کہ عوام مزید دور ہوتا چلا گیا، جبکہ مسلح تنظیموں کو سماجی سطح پر زیادہ قبولیت ملتی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے خلاف “دہشت گرد” جیسے اصطلاحات استعمال کرنے کے باوجود مسلح تنظیمیں مقامی سطح پر تنہا نہیں ہو سکیں بلکہ وہ سماج میں اپنی جڑیں مضبوطی کے ساتھ جوڑنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔
اختتامیہ
مجموعی منظرنامہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ بلوچ نوجوان یہ محسوس کرتے ہیں کہ پاکستان کے موجودہ ریاستی ڈھانچے میں ان کی قومی شناخت، زبان، ثقافت اور تاریخی وجود محفوظ نہیں۔ ان کے نزدیک طاقت کے مسلسل استعمال، سیاسی آوازوں کی بندش اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں نے اس احساس کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
اسی پس منظر میں بلوچ مسلح تنظیمیں بتدریج مضبوط ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کی صفوں میں نئے نوجوان شامل ہو رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی جانب سے عسکری کارروائیوں میں شدت کے باوجود یہ تحریک ختم ہونے کے بجائے مزید منظم اور مؤثر ہوتی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب پاکستانی فوج اور سکیورٹی اداروں کے بارے میں بلوچ عوام میں عدم اعتماد اور نفرت کا تاثر مسلسل بڑھ رہا ہے۔ طاقت کے بے دریغ استعمال، گرفتاریوں، لاپتہ افراد کے معاملات اور اجتماعی سزاؤں جیسے اقدامات نے پاکستان اور بلوچ عوام کے درمیان فاصلوں کو مزید وسیع کیا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ جن پالیسیوں کا مقصد مسلح تحریک کو کمزور کرنا تھا، وہی پالیسیاں مزاحمتی سوچ کو مزید مضبوط کرتی چلی گئی ہیں۔ اور یہی سوچ اب بلوچ سماج میں مزید مضبوط ہورہی ہے کہ بلوچستان کے مسئلے کا حل بندوق کی نالی سے نکل سکتا۔













































