بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کا طلبہ یونینز کی بحالی کا مطالبہ

1

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی (بساک) نے 9 فروری کے موقع پر اپنے ایک بیان میں طلبہ یونینز کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے جو چار دہائیوں سے زائد عرصے سے پابندیوں کا سامنا کررہا ہے۔

اپنے بیان میں بساک کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں 9 فروری کو “Day of Infamy” کے طور پر جانا جاتا ہے، کیونکہ اسی روز 1984 میں ملک بھر میں اسٹوڈنٹ یونینز پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ جنرل ضیاء الحق کے آمریت پسند دورِ حکومت میں یہ پابندی مارشل لاء آرڈرز (MLOs) نمبر 1371 اور 227 کے ذریعے لگائی گئی۔ جیسا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بیان کرتی ہے: “ضیاء کے مارشل لاء کے تحت اس پابندی کا جواز کیمپس میں تشدد کی روک تھام کو بتایا گیا، لیکن درحقیقت یہ طالب علموں کی سیاسی سرگرمیوں کو کچلنے کا ایک بہانہ تھا۔”

ترجمان نے کہا کہ اگرچہ یہ تاثر عام ہے کہ 1989 میں جمہوری حکومت کی آمد کے ساتھ ہی یہ پابندی ختم کر دی گئی تھی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس پابندی کے خاتمے کے لیے کبھی کوئی ٹھوس عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ بلکہ “محمد اسماعیل قریشی بنام محمد اویس قاسم” (سیکرٹری جنرل اسلامی جمعیت طلبہ) کیس میں سپریم کورٹ نے اس پابندی کو قانونی تحفظ فراہم کر دیا، جس کے تحت طلبہ کے لیے یہ لازمی قرار دیا گیا کہ وہ داخلے کے وقت ایک حلف نامہ جمع کرائیں کہ وہ کسی بھی قسم کی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لیں گے۔ اس فیصلے کا نتیجہ یہ نکلا کہ طلبہ اپنی آزادیِ اظہار، اجتماع اور تنظیم سازی کے بنیادی حقوق سے محروم کر دیے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا ماننا ہے کہ طلبہ کے حقوق کی یہ پامالی بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور پرنسپل آف نیچرل جسٹس کے منافی ہے۔ گزشتہ 42 برسوں سے اسٹوڈنٹ یونینز پر مکمل پابندی اور تعلیمی جبر کا سلسلہ جاری ہے۔ طلبہ کو اظہارِ رائے، پُر امن احتجاج اور تنظیم سازی کے ان حقوق سے دور رکھا گیا ہے جن کی ضمانت عالمی انسانی حقوق کے قوانین اور خود پاکستان کا آئین فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپنی رائے کا اظہار کرنا، پُر امن اجتماع کرنا اور طلبہ سیاست سے وابستہ ہونا ہمارا بنیادی آئینی حق ہے۔ طلبہ کو ان حقوق سے محروم رکھنا انہیں ایک ایسی ذہنی کشمکش اور بے چینی کی کیفیت میں مبتلا کرنا ہے جہاں وہ اپنی ان جائز سرگرمیوں سے بھی محروم ہو جاتے ہیں جو ایک پُر امن معاشرے کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ جب طلبہ کو ان کی سیاسی و سماجی فعالیت کا حق دیا جائے گا، تو بلا شبہ نئے افکار جنم لیں گے اور وہ قوم کو روشن خیالی اور خوشحالی کی راہ پر لے جانے کے قابل ہوں گے۔

بیان میں کہا گیا کہ ہم آج کے دن برسرِ اقتدار حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس چار دہائیوں پرانے فیصلے پر نظرِ ثانی کرے اور فی الفور اسٹوڈنٹ یونینز سے پابندی ختم کرے۔ ہم اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ جبر کے سائے میں بھی ہماری تنظیم سازی جاری رہے گی اور ہماری آواز کبھی نہیں دبے گی۔ ہم یاد رکھیں گے، ہم مزاحمت کریں گے اور اپنا حق واپس لینے کا عزم رکھتے ہیں۔