بلوچ آزادی پسندوں کی بڑھتی عسکری طاقت: بیرک گولڈ کو شدید خدشات۔ کمپنی

0

بیرک گولڈ کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو کے مطابق بلوچستان میں حالیہ حملوں اور سیکیورٹی صورتِ حال کی بگڑتی صورتحال کے بعد کمپنی کا بورڈ بلوچستان میں جاری اپنے سونے اور تانبے کے بڑے منصوبے کے تمام پہلوؤں کا ازسرِ نو جائزہ لے رہا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بیرک گولڈ کمپنی کے سی ای او مارک ہِل نے اپنی آمدنی کی رپورٹ کے بعد ہونے والی کانفرنس کال میں کہا کہ بلوچستان میں سیکیورٹی خدشات میں تیزی سے اضافے اور سیکیورٹی واقعات میں نمایاں بڑھوتری کے بعد بورڈ نے فیصلہ کیا ہے کہ ریکوڈک منصوبے کی سرمایہ کاری کے لئے وسائل مختص کرنا سمیت اس کے تمام حصوں کو دوبارہ پرکھا جائے گا۔

کینیڈین کمپنی کے چیف ایکزیکٹو نے مزید کہا کہ ریکوڈک پراجیکٹ کی سیکیورٹی انتظامات، تعمیراتی ٹائم لائن اور سرمایہ جاتی بجٹ کا تفصیلی جائزہ فوری طور پر شروع کیا جارہا ہے، اور اس عمل کی تکمیل کے بعد نئی صورتِ حال سے آگاہ کیا جائے گا۔

رائٹرز کے رپورٹ کے مطابق سونا اور تانبہ نکالنے والا یہ منصوبہ ملکیت کے لحاظ سے 50 فیصد بیرک گولڈ کے پاس، 25 فیصد پاکستان کی تین وفاقی سرکاری اداروں کے پاس اور 25 فیصد حکومتِ بلوچستان کے پاس ہے۔

واضح رہے کہ بیرک گولڈ ایک غیرمقامی کینیڈین ملٹی نیشنل کمپنی ہے جو پاکستانی حکومت کے ساتھ طے شدہ ڈیل کے تحت بلوچستان کے ضلع چاغی کے علاقے ریکوڈک سے سونا اور تانبہ نکالتی ہے۔

بیرک گولڈ نے سیندک پروجیکٹ معاہدہ سال 22 میں پاکستانی حکومت کے ساتھ کیا تھا جس کے بعد سے اس پرجیکٹ پر بیرک گولڈ کام کررہا ہے۔

اس سے کمپنی کی پروجیکٹس حاصل کرنے کے بعد سے ہی مقامی آبادی کی جانب سے یہ شکایات سامنے آتی رہی ہیں کہ ان کی زمینوں اور حقوق کا استحصال کیا جاتا ہے، معاشی فوائد مقامی لوگوں تک نہیں پہنچتے اور روزگار میں بھی غیرمقامی افراد کو ترجیح دی جاتی ہے۔

مزید برآں رواں ہفتے بلوچستان میں بلوچ لبریشن آرمی دیگر چودہ اضلاع میں شامل اس چاغی ضلع کو نشانہ بنایا ہے جہاں ریکوڈک پراجیکٹ واقع ہے۔

اس دوران اپنے بیان میں بی ایل اے نے تمام غیرملکی اور پاکستانی کمپنیوں کو تنبیہ کی ہے کہ وہ بلوچ سرزمین پر بلوچ عوام کی منشا کے خلاف کام کر رہی ہیں اور فوراً یہاں سے نکل جائیں۔

اسی طرح آپریشن ہیروف کے دوسرے مرحلے کے اختتام پر بی ایل اے ترجمان نے آج بیان جاری کرتے ہوئے کہا غیر ملکی کمپنیوں اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو خبردار کیا جاتا ہے کہ بلوچستان کے معدنی وسائل کے استحصال میں پاکستان کے ساتھ کسی بھی شراکت کو قبضے میں معاونت تصور کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا ایک آزاد قوم کی حیثیت سے ہم اپنی سرزمین پر پاکستان کے اقتدار یا دعوے کو تسلیم نہیں کرتے، جو ادارے پاکستان کے نوآبادیاتی منصوبوں میں شریک ہوں گے، انہیں اسی تناظر میں دیکھا جائے گا اور ان کی موجودگی کو فوجی مشینری سے جدا نہیں سمجھا جائے گا۔