بلوچستان کا مسئلہ سیاسی نہیں، اس کا صرف عسکری حل ہے: وزیراعلیٰ بلوچستان

88

وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی نہیں اس کا صرف عسکری حل ہے۔

پاکستان کے نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے کہا کہ 2018 سے پہلے ریاست کی پالیسی مصالحت کی نہیں تھی، دہشت گردی کے واقعات میں مصالحتی پالیسی کی وجہ سے اضافہ ہوا، دوران جنگ ہر طبقہ فکر کو ریاست کے ساتھ کھڑ ے ہونا چاہیے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ آئینِ پاکستان کے بعدسب سے بڑی دستاویز نیشنل ایکشن پلان ہے، نیشنل ایکشن پلان پر سیاسی وعسکری قیادت میں اتفاق رائے تھا۔

سرفراز بگٹی کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردوں کو 2 یا 3 فیصد سے زائدعوام کی حمایت حاصل نہیں، دہشت گرد جب بھی شہروں میں کارروائی کرتے ہیں توانسانوں کو ڈھال بنالیتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ایک سال کے دوران ہزاردہشت گرد انٹیلی جنس بیسڈرکارروائیوں میں مارے گئے، بلوچستان میں دہشت گردوں اوران کے سہولت کاروں کی تعداد 4 یا5 ہزار سے زیادہ نہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ شعبان اورپنجگور میں حملوں سے متعلق خفیہ معلومات تھیں، حملوں میں 31 شہری اور17 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے، نوشکی میں کومبنگ آپریشن اب بھی جاری ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عالمی میڈیا سے درخواست ہے کہ دہشت گردوں کو دہشت گرد کہیں، افغان عبوری حکومت نے دنیا سے وعدہ کیا تھا کہ ان کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی لیکن افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہورہی ہے۔

خیال رہے کہ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے گزشتہ روز بلوچستان بھر میں اپنے “آپریشن ہیروف فیز ٹو” کے آغاز کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیوں اور جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

تنظیم کے ترجمان جیئند بلوچ کے مطابق یہ آپریشن پینتیس گھنٹے گزرنے کے باوجود پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔ ان کے بیان کے مطابق نوشکی، شال اور دیگر علاقوں میں تنظیم کے مسلح افراد کا کنٹرول برقرار ہے اور کئی سرکاری تنصیبات، فورسز کے کیمپوں اور چوکیوں پر قبضہ کیا جا چکا ہے۔

ترجمان کے مطابق مختلف علاقوں میں “دشمن کی عسکری اور انتظامی موجودگی” کو پسپا کیا جا چکا ہے اور قابض فورسز کو فیصلہ کن دباؤ کا سامنا ہے۔ تاہم حکومتی سطح پر ان دعووں کی تصدیق نہیں کی جا سکی، اور سرکاری مؤقف اس سے یکسر مختلف ہے۔