بلوچستان میں کینسر کے مریضوں میں خطرناک اضافہ، رواں سال 12 ہزار سے زائد نئے کیسز رپورٹ

20

بلوچستان میں کینسر کے مریضوں کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ رواں سال اب تک صوبے بھر میں 12 ہزار سے زائد نئے کینسر کے مریض سامنے آ چکے ہیں، جبکہ اٹامک انرجی کینسر اسپتال سینار کی او پی ڈی 22 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جس کے باعث اسپتال کی محدود سہولیات پر شدید دباؤ بڑھ گیا ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق کم عمر افراد میں بھی چھاتی سمیت مختلف اقسام کے سرطان کے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں، جو ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر متوازن طرزِ زندگی، صنعتی فضلہ، سگریٹ نوشی، ماحولیاتی آلودگی اور بروقت تشخیص کی کمی کینسر کے بڑھتے ہوئے کیسز کی اہم وجوہات ہیں۔

سینار اسپتال میں زیر علاج مریضوں اور ان کے لواحقین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کوئٹہ میں جدید سہولیات سے آراستہ ایک نیا کینسر اسپتال قائم کیا جائے تاکہ بڑھتے ہوئے مریضوں کو بروقت اور مؤثر علاج فراہم کیا جا سکے۔

ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت تشخیص، معیاری علاج، عوامی آگاہی مہمات اور صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ نہ دیا گیا تو بلوچستان میں کینسر کے بڑھتے کیسز پر قابو پانا مزید مشکل ہو جائے گا۔