بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ جاری: 23 سالہ فراز ریاستی سرپرستی میں قتل۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی

1

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے جاری بیان میں کہا ہے کہ فراز ولد بہادر، عمر 23 سال، ساکن کوشقلات، تمپ، کو ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والے مسلح گروہ نے گولی مار کر قتل کر دیا۔

بیان میں کہا گیا کہ ایسے مسلح گروہوں کو ریاستی پشت پناہی حاصل ہے اور انہیں بلوچستان میں اختلافی آوازوں اور نوجوانوں کو دبانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ کمیٹی کے مطابق ریاست کی جانب سے ان کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے کے باعث انہیں خوف پھیلانے، ہراسانی، بلیک میلنگ اور خاندانوں کو دھمکانے کی کھلی چھوٹ حاصل ہے۔

کمیٹی نے مزید کہا ہے کہ فراز ایک محنتی نوجوان تھا جسے اس کے خاندان نے شدید مشکلات کے باوجود پرورش دی۔ وہ کڑھائی کے ڈیزائن بنانے والا ایک ہنرمند آرٹسٹ تھا اور اپنے خاندان کی کفالت کے لیے جدوجہد کر رہا تھا۔

بیان کے مطابق اس کا قتل اس بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہے جس کے تحت بلوچستان میں نوجوانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

مزید کہا گیا ہے کہ بلوچستان بھر میں مسخ شدہ اور گولیوں سے چھلنی لاشوں کی برآمدگی ایک سنگین انسانی حقوق کے بحران کی نشاندہی کرتی ہے۔ خاندان مسلسل اپنے پیاروں کی ٹارگٹ کلنگ کی خبریں سننے پر مجبور ہیں، جس سے معاشرے میں خوف اور عدم تحفظ کی فضا گہری ہوتی جا رہی ہے۔

بیان کے آخر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اور بین الاقوامی فوجداری عدالت سے مطالبہ کیا کہ وہ صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور حکومتِ پاکستان کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹھہرائیں۔ کمیٹی نے زور دیا کہ جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل جیسے واقعات کے خلاف عملی اقدامات ناگزیر ہیں اور محض بیانات کافی نہیں۔