بلوچستان میں عورتوں کی جبری گمشدگیاں: شورش، ریاست اور ایک خطرناک موڑ
تحریر: اسد بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
اکیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ ہی بلوچستان میں پانچویں مسلح شورش نے آہستہ سے سر اٹھانا شروع کیا جس میں تمام اندازوں کے برعکس کمی آنے کے بجائے بتدریج اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ جب اکبر خان بگٹی حیات تھے اور ان کا ریاست کے ساتھ جنگی رویہ عروج پر تھا تو ایک فوجی جنرل نے طاقت کے نشے میں مکا لہرا کر کہا تھا کہ “بلوچوں کو وہاں سے ہٹ کریں گے جہاں کا انہوں نے سوچا نہیں ہے۔” شاید اکبر خان نے اس کا کوئی جواب بھی دیا ہوگا، لیکن بلوچ تحریک سے وابستہ ایک اور شخصیت نے کہیں کہا تھا کہ “یہ جنگ جب پنجاب کے گھروں میں پہنچے گی تب ان کی تپش محسوس کی جائے گی۔” اب نہ اکبر خان رہے، نہ وہ جنرل اور نہ ہی بلوچ تحریک کا وہ رکن، لیکن بلوچستان آج بھی وہیں کھڑا ہے جہاں ایک فوجی جنرل کے لہراتے مکے نے کہانی کا ایک پُرتشدد سرا چھوڑا تھا، یعنی طاقت کے ترازو میں تولنے کی پالیسی۔ اسی پالیسی کا تسلسل گزشتہ پچیس سالوں میں تواتر کے ساتھ رنگ بدل کر جاری ہے۔ حال ہی میں دی گئی ایک پریس بریفنگ میں عسکری حکام کے مطابق ایک سال کے دوران بلوچستان میں 58,778
ہزار انٹیلیجنس بیسڈ ٹارگٹڈ آپریشن کیے گئے۔ ان میں کتنا اور کیا نقصان ہوا وہ ایک الگ نوعیت کی بحث ہے۔
سن دو ہزار میں مسلح شورش کے ساتھ ہی ریاست نے دباؤ ڈالنے کا فیصلہ کیا، تب ہی طاقت کے مراکز نے 2007 میں “مار دو اور پھینک دو” کا شفٹ لیا تو غلام محمد اور ان کے ساتھیوں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ تب سے اب تک مختلف بدلتے رنگوں کے ساتھ لاشیں پھینکنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اگر ایک سال میں 58 ہزار انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کا تخمینہ لگایا جائے تو کم از کم پانچ سے دس ہزار افراد جبری گمشدگی کا شکار بنائے گئے ہوں گے، یوں انسانی حقوق پر کام کرنے والی بلوچ تنظیموں کے ہزاروں لاپتہ افراد کا دعویٰ ایک حد تک درست تسلیم کیے جانے کے قابل ہے۔ اگرچہ یہ تعداد مبالغہ آرائی ہو اور جبری لاپتہ افراد کی تعداد ہزاروں کے بجائے سیکڑوں ہی میں ہو لیکن کیا 58 ہزار ٹارگٹڈ آپریشنز کا کچھ اثر پڑا ہے؟ ریاستی اداروں اور کنٹرولڈ میڈیا کے اعداد و شمار اپنی جگہ لیکن بلوچستان میں رہنے والے عام لوگ اس کا بہتر جواب دے سکتے ہیں۔
بلوچستان میں جبری گمشدگی کا مسئلہ گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے ایک نہایت اہم مسئلہ ہے۔ بلوچ تعلیم یافتہ نوجوانوں سے لے کر سرکاری ملازمین، مزدوروں اور عام شہریوں کو جبری لاپتہ کر کے شورش کو ظاہری طور پر اثر پذیر نقصان نہیں پہنچایا گیا، بلکہ ریاستی تشدد اور تمام تر جبر کے باوجود گزشتہ کچھ سالوں سے شدت پسندی کے واقعات بڑھتے ہوئے محسوس ہو رہے ہیں۔ حتیٰ کہ ایک نئی حکمت عملی کے تحت مسلح تنظیموں کی جانب سے پہاڑوں سے شہروں کا رخ کر کے شاہراہیں بلاک کی گئیں، اسنیپ چیکنگ کے ساتھ ساتھ کئی کئی گھنٹوں تک بڑے شہروں کو یرغمال بنا کر عارضی قبضہ قائم کیا گیا۔ ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ پھر اتنے بڑے پیمانے کے آپریشن اور جبری گمشدگیوں کا حاصل کیا رہا؟
پالیسیوں پر نظرثانی کر کے حقیقت پسندانہ رخ پر آنے کے بجائے پچھلے سال کے دوران بلوچ یکجہتی کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ ایک درجن عورتوں کو جبری لاپتہ کیا گیا جن میں ایک آٹھ ماہ کی حاملہ عورت بھی شامل ہے۔ بی وائی سی نے محض ایک سرسری دعویٰ نہیں کیا بلکہ اپنی ایک جامع رپورٹ میں ان تمام عورتوں کا مکمل ڈیٹا بھی شیئر کیا ہے جو جنوری کے ابتدائی ہفتے میں جاری کیا گیا تھا۔ بلوچ خواتین کی جبری گمشدگی کا یہ عمل بلوچستان کے ایک ایسے نیم قبائلی معاشرے میں، جہاں خواتین کو عزت اور وقار کے ایک الگ پیمانے پر ناپا جاتا ہے، ایک زیادہ خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔
بی وائی سی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مختلف اضلاع میں طالبات، گھریلو خواتین، لیڈی ہیلتھ ورکرز اور کم عمر بچیوں تک کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا، جن کے اہل خانہ آج بھی ان کی بازیابی کے لیے دربدر ہیں۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطابق یہ عمل نہ صرف آئینِ پاکستان بلکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔
بلوچ وومن فورم کی سربراہ ڈاکٹر شلی بلوچ عورتوں کی جبری گمشدگی کو حیران کن عمل نہیں سمجھتیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں سے بلوچ عوام روزانہ کی بنیاد پر اغوا، جعلی مقابلوں اور ٹارگٹ کلنگ جیسے سنگین واقعات کا سامنا کر رہے ہیں اور اب اس سلسلے میں عورتوں کی جبری گمشدگیاں ایک نیا اور نہایت تشویش ناک پہلو بن کر سامنے آئی ہیں لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ ریاست کبھی یہ نہیں دیکھتی کہ کون عورت ہے اور کون مرد، بلکہ وہ جنس کے بجائے شعور اور علم کی بنیاد پر افراد کو جبری گمشدگی کا نشانہ بناتی ہے۔
ڈاکٹر شلی کے مطابق بلوچ عورتوں کی جبری گمشدگی آج شروع نہیں ہوئی بلکہ آج ہمارے سامنے جبری گمشدگی کے کیسز آ رہے ہیں، ورنہ خواتین آج نہیں بلکہ کئی برسوں سے جبری گمشدگیوں کا سامنا کر رہی ہیں مگر بدقسمتی سے ایسے بیشتر کیسز رپورٹ ہی نہیں ہو پاتے۔ ڈاکٹر شلی کا دعوی ہے کہ جغرافیائی طور پر جھاؤ، آواران اور دیگر دیہی علاقوں میں خواتین کی ہراسانی اور گمشدگی کے متعدد واقعات منظرِ عام پر نہیں آ سکے۔ صرف گمشدگیاں ہی نہیں بلکہ بلوچ خواتین کا استحصال اور ٹارگٹ کلنگ بھی کی گئی۔ ڈاکٹر شلی بلوچ کی تنظیم بلوچ وومن فورم کے جاری شدہ اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں 12 خواتین اور 2026 میں اب تک ایک خاتون کو جبری طور پر لاپتہ کیا جا چکا ہے۔
بی وائی سی کا کہنا ہے کہ بلوچستان جیسے قبائلی اور قدامت پسند سماجی ڈھانچے میں خواتین کی جبری گمشدگی نہ صرف متاثرہ خاندانوں بلکہ پورے معاشرے میں عدم تحفظ، خوف اور اشتعال کو جنم دے رہی ہے جس کے نتائج دور رس ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ دعویٰ کرتی ہے کہ سال 2025 کے دوران بلوچستان کے مختلف اضلاع میں کم از کم 12 بلوچ خواتین اور بچیوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔ یہ واقعات کسی انفرادی یا اتفاقی نوعیت کے نہیں بلکہ ایک منظم ظلم کی نشاندہی کرتے ہیں جس میں جبری گمشدگی کو بطور اجتماعی سزا استعمال کیا جا رہا ہے۔
بلوچ مردوں کے بعد عورتوں کی جبری گمشدگی مسلح شورش پر کس قدر اثر انداز ہوگی اور ریاست اور بلوچ عوام کے درمیان پہلے سے کشیدہ صورت حال مستقبل میں کس طرح کے نتائج دے گی، اس سوال کے جواب میں سیاسی تجزیہ نگار اور بی ایس او ایکس کیڈر کے بانی چیئرمین نادر قدوس کا کہنا ہے کہ جب بات عورت کی بے حرمتی، جبری گمشدگی یا غیر قانونی حراست کی آتی ہے تو یہ معاملہ صرف ایک فرد یا خاندان تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری قوم کے احساسات کو مجروح کرتا ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جس پر چل کر نہ صرف واپسی مشکل ہو جاتی ہے بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کی آخری کڑیاں بھی ٹوٹنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ ایسے واقعات نفرت، بے اعتمادی اور مزاحمت کو مزید ہوا دیں گے اور یہ سنگین خلاف ورزیاں بلوچ عوام کے دلوں میں ریاست کے خلاف نفرت کو مزید بڑھائیں گی۔
اسی تناظر میں پوچھے گئے سوال پر گرلز ڈگری کالج تربت کی پرنسپل اور ادیبہ پروفیسر گل یاسین کا کہنا ہے کہ ریاست کے جو ادارے بلوچ عورتوں کی جبری گمشدگی میں ملوث ہیں بدقسمتی سے وہ بلوچ قبائلی روایات اور کوڈ آف کنڈکٹ سے واقف نہیں ہیں۔ اس سے یقینا بلوچ نوجوان متاثر ہوں گے اور اس کا ردعمل خاموش نہیں ہوگا بلکہ مزاحمت کی صورت میں سامنے آئے گا۔ پروفیسر گل یاسین چیئرمین نادر قدوس سے اس بات پر اتفاق کرتی ہیں کہ ریاست اور اس کے اداروں کی سوچ بالکل غلط ہے کہ ڈر اور خوف کا ماحول پیدا کر کے شورش کو دبایا جا سکتا ہے بلکہ خواتین کی جبری گمشدگیاں اس ڈر کو مزید مزاحمت میں بدلنے اور فطری ردعمل کو شدت دینے کا سبب بنیں گی۔
اسی سوال کے جواب میں چیئرمین نادر قدوس دوبارہ واضح کرتے ہیں کہ جب بات عورت کی بے حرمتی، جبری گمشدگی یا غیر قانونی حراست کی آتی ہے تو یہ معاملہ صرف ایک فرد یا خاندان تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری قوم کے احساسات کو مجروح کرتا ہے اور یہ وہ راستہ ہے جس پر چل کر ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کی آخری کڑیاں بھی ٹوٹنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے، اور ایسے واقعات نفرت، بے اعتمادی اور مزاحمت کو مزید ہوا دیں گے۔
ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ معاملات کو بہتر اور اعتماد کو بحال کرنے کے بجائے آخر ریاست جان بوجھ کر ایک خطرناک راستے کا انتخاب کیوں کر رہی ہے؟ اس سوال کے جواب میں بلوچ وومن فورم کی سربراہ ڈاکٹر شلی بلوچ کا کہنا ہے کہ کالونائزر کے لیے عورتوں کا باشعور ہونا اور میدان میں آنا زیادہ پریشان کن امر ہے اسی لیے وہ خواتین کی جبری گمشدگیوں کے ذریعے خوف پھیلانا چاہتا ہے۔ تاہم تجربہ اس کے برعکس ہے کیونکہ کوئی بھی تنظیم یا تحریک اغوا، جبری گمشدگی یا ٹارگٹ کلنگ سے ختم نہیں ہوتی۔
چیئرمین نادر قدوس کسی حد تک ڈاکٹر شلی سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ریاست معاملات کو بہتر بنانے اور اعتماد بحال کرنے کے بجائے اس لیے خطرناک راستہ اختیار کر رہی ہے کہ وہ مکالمے اور انصاف کے بجائے طاقت، جبر اور خوف پر مبنی پالیسی کو ترجیح دے رہی ہے جس کے نتیجے میں بلوچ سماج کی نفسیات اور روایات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے اور نفرت، بے اعتمادی اور مزاحمت کو خود بڑھایا جا رہا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی، بلوچ وومن فورم اور وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز جیسی انسانی حقوق پر مبنی تنظیمیں بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے حوالے سے کافی عرصے سے سرگرم ہیں، ان تنظیموں میں سے ہر ایک کے پاس انسانی حقوق کی پامالیوں اور خواتین کی جبری گمشدگیوں پر اپنے الگ رپورٹ موجود ہیں تاہم ان سب کے رپورٹ اس نکتہ پر اتفاق کرتی ہیں گزشتہ سال اور اس سال کے شروع میں 13 خواتین جبری گمشدگی کا شکار بنائے گئے ہیں جن 12 خواتین کو گزشتہ سال جبری لاپتہ کیا گیا۔
بلوچ جیسے حساس سماجی اور منظم خاندانی ڈھانچے میں ایک خاتون کی جبری گمشدگی کا اثر اس خاندان پر کیا پڑتا ہے اور وہ خاندان معاشرے میں اپنی حیثیت کس طرح ایڈجسٹ کرتا ہے، یہی سوال میں نے مکران میڈیکل کالج تربت کے شعبہ نفسیات کے سربراہ ڈاکٹر شعیب کاشانی کے سامنے رکھا۔ ان کے مطابق خواتین کی جبری گمشدگی خاندانوں کو ایک ایسی مسلسل اذیت میں مبتلا کر دیتی ہے جس کا کوئی واضح انجام نہیں ہوتا، نہ یقین میسر آتا ہے، نہ خبر اور نہ ہی ذہنی سکون۔ اس صورت حال کے نتیجے میں والدین، شوہر اور بہن بھائی شدید ذہنی دباؤ، خوف، بے چینی اور نیند کی خرابی جیسے مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔
ڈاکٹر شعیب کاشانی اس کے ایک اور نفسیاتی پہلو پر توجہ دلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ اکثر خاندان کے افراد، خصوصاً مردوں میں احساسِ جرم بھی جنم لیتا ہے، جہاں وہ خود کو اس سانحے کا ذمہ دار سمجھنے لگتے ہیں کہ شاید وہ اپنی عزیز کو بچا سکتے تھے۔ مزید برآں خوف اور بے بسی کا ایک مستقل احساس گھر کے ماحول پر حاوی ہو جاتا ہے، جہاں ہر لمحہ یہ اندیشہ رہتا ہے کہ اب کسی کے ساتھ بھی ایسا ہو سکتا ہے۔
بلوچستان کا سماجی ڈھانچہ جہاں خاندانی نظام بہت مضبوط ہے، دو دہائیوں سے جاری شورش میں اب بچوں خصوصاً ہائی سیکنڈری کے طالب علموں کی شمولیت مسلح فیکٹر میں شدت سے نظر آ رہی ہے۔ ایک عورت کے اغوا کا بچوں پر نفسیاتی اثر بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر شعیب کاشانی کہتے ہیں کہ جبری گمشدگی کا سب سے گہرا اور خاموش اثر بچوں پر پڑتا ہے۔ وہ خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگتے ہیں، یا تو حد سے زیادہ خاموش ہو جاتے ہیں یا شدید غصے اور چڑچڑے پن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس عدم تحفظ کا براہِ راست اثر ان کی تعلیم پر بھی پڑتا ہے جس کے نتیجے میں پڑھائی میں عدم دلچسپی، کارکردگی میں کمی اور بعض اوقات اسکول چھوڑ دینے جیسے مسائل سامنے آتے ہیں۔ یہ صدمہ اکثر بچوں کی شخصیت اور ذہنی صحت پر طویل المدتی اثرات مرتب کرتا ہے جو ان کی پوری زندگی کے رویوں اور نفسیاتی توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔
بلوچ عورتوں کا جبری اغوا ریاست اور بلوچ کے درمیان پہلے سےجاری کشیدہ تعلقات کو مزید بگاڑنے کا سبب بنتا ہے۔ ریاستی ادارے یا تو بلوچ سماجی ساخت میں عورت کے تقدس کا صحیح ادراک نہیں رکھتے، یا پھر دانستہ طور پر اشتعال انگیزی کو ہوا دینا چاہتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ عورت کے معاملے میں بلوچ سماج کبھی بھی سمجھوتہ پسند نہیں رہا۔ کلاسیکل عشقیہ ادب سے آج کی جدید مزاحمتی لٹریچر تک تاریخ کے ہر دور میں بلوچ سماج میں عورت کی تقدیس مقدم رہی ہے لیکن آج جب شورش اور انسرجنسی میں شدت پیدا ہوئی ہے تو ریاست معاملات کو زیادہ دانش مندی سے دیکھنے اور بہتر بنانے کے بجائے بلوچ کوڈ آف کنڈکٹ کے برخلاف عورتوں کو کیوں اغوا کر رہی ہے؟ اس پر ڈاکٹر شلی بلوچ کا کہنا ہے کہ ہمارا ماضی عورتوں کی حرمت اور عزت کا قائل رہا ہے۔ بلوچ تاریخ میں عورت کی ثالثی سے جنگیں ختم ہوئی ہیں مگر آج بلوچ عورت قید و بند اور جبری گمشدگی کا شکار ہے جب کہ نام نہاد سیاسی جماعتیں اور غیرت کے خودساختہ ٹھیکیدار خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ایسی صورت حال میں ریاست جان بوجھ کر سماج کو انتشار کی جانب لے جانے کی کوشش کررہی ہے تاکہ بلوچ روایات پامال اور سماجی تقسیم مذید گہرا ہو۔ شاید اس تقسیم کو ریاست اپنے حق میں استعمال کرنا چاہتی ہے۔
تاریخ سے وابستہ حقیقت یہ ہے کہ بلوچ سماجی ساخت میں عورت کا کردار ہر دور میں مقدم رہا اور عورتوں کی حرمت و عزت کا سخت ترین حالات میں بھی خیال رکھا گیا لیکن آج کے جنگ زدہ بلوچستان میں اب حالات ایسے نہیں رہے۔ کئی سال پہلے ایک فوجی جنرل نے مکا لہرا کر بلوچستان میں تین سرداروں کو معتوب ٹھہرایا اور انہیں وہاں سے مارنے کی دھمکی دی جہاں کا سوچا نہیں جا سکتا تھا۔ گوکہ وہ تینوں سردار آج موجود نہیں ہیں جب کہ خود ریاست اور ان کے اداروں کے پروردہ درجنوں سرداروں کی روز نشوونما ہو رہی ہے مگر اس فوجی کا مکا آج بھی وہیں لہرا رہا ہے جہاں آگ اور خون کے ایک بے ربط دور کا آغاز کیا گیا تھا۔
بلوچستان میں فوجی کا مکا، مزاحمتی قوتوں کی بڑھتی ہوئی طاقت، سیاسی کارکنوں کی زبان بندی اور بلوچ کوڈ آف کنڈکٹ کی پامالی کر کے عورتوں کی جبری گمشدگی کا جو نیا باب کھولا گیا ہے اس کی شدت کا اندازہ صرف بلوچستان کا رہنے والا شخص ہی لگا سکتا ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































