بلوچستان میں جاری ریاستی جبر و بربریت اپنے وحشتناک اظہار کو مظلوم اقوام کی نسل کشی میں غیر معمولی اضافے کے ذریعے ظاہر کر رہی ہے۔بی ایس او

1

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ بلوچ وطن پر جاری نوآبادیاتی جبر نے بلوچ سماج کو اجتماعی طور پر موت کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں قابض حکمرانوں اور ان کے آلۂ کاروں کی درندگی، جبر و بربریت اور ملٹری آپریشنز کے باعث کوئی خاندان، قصبہ یا گھر محفوظ نہیں رہا۔ بلوچ طلبہ کی مسلسل جبری گمشدگیوں، مسخ شدہ لاشیں پھینکنے کے سلسلے اور اجتماعی سزاؤں میں بے تحاشہ اضافے نے بلوچ سماج کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔

ترجمان نے بلوچستان بھر میں ریاستی جبر کے خلاف اٹھنے والی پُرامن اور جمہوری آوازوں کو نوآبادیاتی پالیسیوں، انسان دشمن قوانین کے نفاذ، جھوٹے مقدمات، ماورائے عدالت جبری گمشدگیوں اور فیک انکاؤنٹرز کے ذریعے کچلنے کے عمل میں حالیہ اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی درندگی کو بلوچ قوم کی منظم نسل کشی قرار دیا۔

ترجمان نے مزید کہا کہ حالیہ دنوں میں بلوچ طلبہ کی جبری گمشدگیوں کے واقعات میں بے دریغ اضافہ بلوچ طلبہ میں بے چینی اور خوف پیدا کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔ تاہم حالیہ عوامی شورش میں بلوچ نوجوانوں نے ثابت کیا کہ وہ اپنی تاریخی روایات کا پاس رکھتے ہوئے سیاسی مزاحمت کے شعور سے لیس ہیں اور کسی بھی قسم کے ظلم و جبر کے خلاف ثابت قدمی سے جدوجہد کا علم تھامے رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچ نوجوان ریاستی نسل کش پالیسیوں کا بنیادی ہدف بن چکے ہیں۔ اسی تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے ریاست بلوچستان بھر میں بلوچ نوجوانوں کی جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، تعلیمی اداروں کی ملٹرائزیشن، ٹارگٹ کلنگ، سیاسی و شعوری جدوجہد پر قدغن، اور مسخ شدہ لاشیں پھینکنے جیسے اقدامات میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے۔

ترجمان نے آخر میں کہا کہ بلوچستان میں جاری ریاستی جبر و استبداد کے تناظر میں ملک بھر کی ترقی پسند سیاسی جماعتیں، طلبہ تنظیمیں، سول سوسائٹی، مزدور یونینز اور وکلا تنظیمیں اپنی سیاسی و اخلاقی ذمہ داریوں کا ادراک کرتے ہوئے سیاسی عمل پر قدغن اور غیر اعلانیہ مارشل لا کے نفاذ کی سنگین نوعیت کا جائزہ لیں، مظلوم اقوام کی نسل کشی کے خلاف منظم ہوں اور مؤثر کردار ادا کریں