بلوچستان میں تازہ حملے: پاکستان کے چین و امریکا سے کیے گئے معاشی وعدوں کیلئے خطرہ – الجزیرہ رپورٹ

176

الجزیرہ کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق بلوچستان پاکستان کے اُن معاشی منصوبوں کا مرکز ہے جن کے ذریعے اسلام آباد چین اور امریکا کو سرمایہ کاری پر آمادہ کرنا چاہتا ہے۔ مگر حالیہ مسلح حملوں نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ بلوچستان میں سیکیورٹی کی صورتحال غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سنجیدہ چیلنج بنی ہوئی ہے۔

بلوچستان میں حملوں کا تازہ واقعہ

فروری 2026 کے آغاز میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والے مربوط حملوں میں متعدد فورسز اہلکار مارے گئے جبکہ فوج کے مطابق 145 مسلح افراد ہلاک ہوئے۔ یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بلوچستان میں معدنی وسائل میں سرمایہ کاری کی دعوت دے رہا تھا۔

معدنی وسائل اور عالمی وعدے

ستمبر 2025 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران پاکستانی آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے وزیر اعظم شہباز شریف کے ہمراہ پاکستان کے قیمتی معدنی وسائل کو امریکی سرمایہ کاری کے لیے پیش کیا۔ ان معدنی ذخائر کی بڑی مقدار بلوچستان میں واقع ہے۔

بلوچستان کی معاشی اہمیت

بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا مگر معاشی طور پر سب سے پسماندہ صوبہ ہے۔ یہاں سونا، تانبہ، کوئلہ، گیس اور تیل جیسے قیمتی وسائل موجود ہیں، جن سے وفاقی حکومت کو بڑا ریونیو حاصل ہوتا ہے۔

چین اور سی پیک

بلوچستان چین کی جانب سے پاکستان میں کی جانے والی بھاری سرمایہ کاری کا بھی مرکز ہے، خاص طور پر گوادر بندرگاہ اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے منصوبے۔ چین پہلے ہی سی پیک منصوبوں کی حفاظت کے لیے ہزاروں پاکستانی فوجی اہلکاروں پر انحصار کر رہا ہے۔

ذمہ داری اور الزام

حملوں کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی (BLA) نے قبول کی، جو برسوں سے ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد کر رہی ہے ،،پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے حملوں کا الزام بھارت پر عائد کیا، تاہم بھارت نے یہ دعویٰ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو بلوچستان کے عوام کی دیرینہ شکایات پر توجہ دینی چاہیے۔،،

مسئلے کی جڑیں

ماہرین کے مطابق بلوچستان کا بحران محض سیکیورٹی مسئلہ نہیں بلکہ سیاسی محرومی اور معاشی ناانصافی سے جڑا ہوا ہے ،،
برلن میں مقیم محققہ سحر بلوچ نے کہا کہ جب تک بلوچستان کے عوام کی رضامندی شامل نہیں کی جاتی، ہر بڑا منصوبہ خطرے میں رہے گا۔

سنگاپور کے ایس راجارتنم اسکول آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کے ایک ریسرچ فیلو عبدالباسط نے ایک مختلف نقطہ نظر پیش کیا، اور دلیل دی کہ صوبے کے اہم سرمایہ کار، چین اور ممکنہ طور پر امریکہ، پہلے ہی خطرات سے پوری طرح آگاہ ہیں۔

باسط نے اگست 2024 میں متعدد مقامات پر ایک اور مربوط بی ایل اے کے حملے کا حوالہ دیتے ہوئے الجزیرہ کو بتایا، “چین کی ملک میں CPEC کی سرمایہ کاری ہے، اور امریکہ نے ہیروف 1.0 کے پورے سال بعد، گزشتہ سال ستمبر میں معدنیات کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

انہوں نے کہا کہ “ظاہر ہے، اس طرح کے حملے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متزلزل کرتے ہیں، لیکن یہ حکومت سے حکومت کے سودے ہیں۔ یہ اسٹریٹجک سرمایہ کاری کے حساب کتاب کا حصہ ہیں، اور نہ ہی امریکہ اور نہ ہی چین اپنی سرمایہ کاری کو واپس لیں گے،”

اسلام آباد میں قائم سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر امتیاز گل نے کہا کہ بلوچستان اور دیگر جگہوں پر تشدد میں اضافہ سرمایہ کاروں کو روک رہا ہے۔

انہوں نے الجزیرہ کو بتایا، “کوئی بھی سمجھدار قومی یا بین الاقوامی سرمایہ کار اپنی رقم کو انتہائی غیر مستحکم صورت حال میں خطرے میں نہیں ڈالے گا،” انہوں نے مزید کہا کہ بحران کی جڑیں “خود صوبے میں موجود مسائل اور اسلام آباد کے نقطہ نظر سے منسلک ہیں”۔

بلوچستان ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان کے ساتھ ایک طویل اور غیر محفوظ سرحد بھی رکھتا ہے۔ یہ سرمایہ کاروں کے لیے ایک “ہائی رسک زون” کے طور پر خطے کے تصور میں اضافہ کرتا ہے۔

سرمایہ کاری پر اثرات

پاکستان کی معیشت پہلے ہی کمزور ہے اور آئی ایم ایف کے سہارے کھڑی ہے۔ ایسے حالات میں بلوچستان میں بڑھتا ہوا تشدد غیر ملکی سرمایہ کاری کو مزید خوفزدہ کر رہا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے پہلے چھ ماہ میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے ،،
اسلام آباد میں قائم تحقیقی ادارے کے سربراہ امتیاز گل نے کہا کہ کوئی بھی سمجھدار سرمایہ کار غیر مستحکم ماحول میں اپنا پیسہ نہیں لگاتا ،،