بلوچستان میں الیکشن نہیں، صرف نیلامی ہوا، لاپتہ افراد کا مسئلہ سنگین ہے۔ ڈاکٹر مالک

23

لاہور نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان اس وقت دو سنگین مسائل شورش اور جبری گمشدگیوں کی لپیٹ میں ہے لیکن ان کا کوئی واضح حل نظر نہیں آ رہا۔

عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مالک نے بتایا کہ جب بھی وہ اپنے علاقے جاتے ہیں، روزانہ چار سے پانچ افراد کسی نہ کسی لاپتہ شخص کی شکایت لے کر آتے ہیں، جو انتہائی تشویشناک ہے۔

انہوں نے حکومت اور سیاسی قیادت پر زور دیا کہ وہ ان مسائل کا فوری اور پائیدار حل نکالیں۔

ڈاکٹر مالک نے کہا کہ بلوچستان کو صرف سیکیورٹی مسئلہ سمجھ کر نمٹانے سے حالات مزید خراب ہوں گے، اور سیاسی جماعتوں اور نمائندوں کو شامل کیے بغیر بہتری ممکن نہیں۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں عوامی بنیادوں والی سیاسی جماعتوں کے لیے سیاسی گنجائش مسلسل کم کی جا رہی ہے اور عوام کے منتخب نمائندے پارلیمان میں نہیں پہنچ پاتے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے دور میں جبری گمشدگیوں کے خاتمے سمیت کئی نکات پر اتفاق ہوا تھا، مگر ان پر عملدرآمد نہیں ہوا۔

سابق وزیر اعلیٰ نے بلوچستان میں سیاسی اصلاحات، وسائل کی حوالگی، 1973 کے آئین، 18ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ سیکیورٹی ادارے مکمل طور پر سیاست سے دور رہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں حقیقی الیکشن نہیں ہوئے بلکہ وہاں صرف نیلامی ہوا ہے اور جو زیادہ سرمایہ لگاتا ہے وہی اقتدار میں آتا ہے، لاپتہ افراد اور حکومتی گورننس کے مسائل سنگین ہیں، اور مذاکرات کا ماحول موجود نہیں۔

ڈاکٹر مالک نے وفاقی حکومت پر بھی تنقید کی کہ بلوچستان کے وسائل لوٹے گئے، صوبے میں بے روزگاری بڑھ گئی اور سرحدی علاقوں میں تعینات اہلکار مستفید ہوئے جبکہ عام عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ساٹھ فیصد سے زائد کرپشن ہے، اور ریاست کو مسائل کے سنجیدہ اور پائیدار حل کے لیے دل بڑا کرنا ہوگا۔

انہوں نے سرحدی تجارت کے حوالے کہا بلوچ اور پشتون نسلیں چمن سے جیونی تک غیر رسمی تجارت سے وابستہ رہی ہیں، جسے سمگلنگ قرار دیا گیا، حالانکہ پندرہ سے بیس لاکھ افراد کی روزی روٹی اس پر منحصر ہے۔

ڈاکٹر مالک نے اپنے تقریر میں خبردار کیا کہ اگر ان حقائق کو نظرانداز کیا گیا تو صورتحال مزید خراب ہوگی۔